کیا گزرے گی، کیا بیتے گی، جل جانے کا عالم کیا ہو گا
زنجیر سرہانے رکھ کر میں اس سوچ میں ڈوبا رہتا ہوں
کِس طرح گدائے طیبہ کو عشاق سلامی دیتے ہیں
سینے میں مقید رکھوں گا کِس طرح دلِ بیتاب کو میں
جب گنبدِ خضرا کی ٹھنڈک تن من میں سما سی جائے گی
جب اپنے سلگتے ہونٹوں کو رکھ دوں گا مَیں اُنؐ کی چوکھٹ پر
جب روضۂ اطہر کی جالی مَیں سامنے اپنے پاؤں گا
یہ چاند ستارے قدموں میں جھُک جائیں گے فرطِ حیرت سے
اِک عُمر گذاری ہے مَیں نے بیکار زمانے والوں میں
وہ اپنی شفاعت کی چادر ڈالیں گے ریاضِؔ مضطر پر
— Riaz Hussain Chaudhary\
