جس طرف دیکھئے گلشن میں بہار آئی ہے
خوشنما پھول گُلستاں میں کِھلے ہیں لیکن
مصطفٰے کی یہ عِنایت ہے کہ میرے دل میں
جب کبھی جس نے بھی پائی ہے جہاں کی نعمت
آہ! مجبور پہ ناچار پہ رنج و غم کی
دے دے مولا! غمِ سلطانِ مدینہ دیدے
جب تڑپ کر دِلِ غمگیں نے پُکارا آقا!
کر دو سَیراب دِل تِشنہ کو اب تو ساقی!
گُھپ اندھیرا تھا گناہوں کا میں صدقے جاؤں
نَزع میں ، قَبر میں ، مِیزانِ عمل اور پُل پر
سُنّتیں شاہِ مدینہ کی تُو اپنائے جا
مال و دولت کی ہَوَس دِل سے مٹادے یارب
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
