پار لگ جائے گا ذات میں ڈوب جافتح کرنی ہیں گر دل کی گہرائیاں
بھیگی آنکھوں کی برسات میں ڈوب جاایک اک حرفِ قرآں میں رہتے ہیں وہ
ایک اک جوئے آیات میں ڈوب جادیدہء صبح سے پھوٹنا ہے اگر
آپ کے ہجر کی رات میں ڈوب جالا سے کرنا ہے الّا تلک کا سفر
نفی کہتی ہے اثبات میں ڈوب جااُن کا ہر کام ہر بات انمول ہے
اُن کے ہر کام ہر بات میں ڈوب جالینے آئیں گے کتنے ہی ساحل تجھے
بیکرانیِ جذبات میں ڈوب جادل میں اپنے ڈبو دے مناجات کو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
