پہنچے نہ جہاں ذہن وہاں اُن کے قدم ہیںصدیاں ہی نہیں عہدِ رسالت کی کنیزیں
آفاق بھی سب حاشیہ بردارِ حرم ہیںقرآن کا پڑھنا بھی زیارت ہے نبی کی
اوصاف ہیں تحریر خدوخال رقم ہیںتاریکیِ پَیہم ہو تو وہ صُبح کا تارا
سُوکھا ہُوا موسم ہو تو وہ ابرِ کرم ہیںمَیں اُن میں فنا ہو کے اُنھیں دیکھ رہا ہُوں
وہ زندہ سلامت پسِ دیوارِ عدم ہیںاندر بھی مرے دفترِ سرکار کُھلا ہے
اس عرش کی تحویل میں بھی لوح و قلم ہیںکِتنا ہی مَیں تقسیم ہُوں ‘ حاصل وہی میرا
کِتنی بھی خطائیں ہوں عنایات سے کم ہیںآنکھیں بھی اُنھیں دیکھتی رہتی ہیں مظفّؔر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
