سرجھکاہے ہاتھ اُٹھائے ہیں دُعا کے واسطے
مکے آ کر جھوم کر اللہ! کعبے کا طواف
استلامِ سنگ اسود کی سعادت دے مجھے
میں لپٹ کر ملتزم سے خوب رو رو کر دُعا
رُو بقبلہ میں کھڑے ہو کر پیوں زم زم کے جام
پھر منیٰ، عرفات و مزدلفہ کے جلوے دیکھ لوں
حج مبرور اے خدا! سالِ رواں کر دے نصیب
اب مدینے کی زیارت کی اجازت ہو عطا
سبز گنبد دیکھ کر آنکھیں ہوںٹھنڈی دل ہو خوش
کاتب تقدیر! لکھ دے موت طیبہ میں مری
گنبد خضرا کے سائے میںشہادت دے مجھے
وقت آخر جلوۂ محبوب کی خیرات دے
یاالٰہی! مغفرت عطارؔ کی کر بے حساب
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
