ان کی رحمت ملی جب مدینے گیا
چٹکی دل کی کلی جب مدینے گیا
ان کی خوشبو سے راہیں مہکتی ہوئیں
حاضری ان کے در کی بڑی چیز ہے
روح مردہ کو ان کے کرم سے ملی
شہرِ طیبہ کا کیا ہے جہاں میں مقام
سبز گنبد پہ پہنچی نظر تو مٹی
ہر طرف ہی نظر آئی مجھ کو ریاضؔ
— Unknown
