کیسے کیسے سائے مجھ بے جسم کو پہنا دیئےآپؐ کو چھوتے ہی میں پتھر سے سونا بن گیا
دیکھتے ہی آپؐ کو آنکھوں نے پر پھیلا دیئےاک نیا دروازہ ، ہر دروازے میں کُھلتا گیا
اپنی جانب آنے والے عرش پر پہنچا دیئےآپؐ کی سیرت کا ہر پہلو عدالت ساز تھا
سچ وہی ہیں فیصلے جو آپ نے فرما دیئےآپؐ کی آواز میں ہر ایک کی آواز تھی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
