عرشِ عُلیٰ سے اعلیٰ میٹھے نبی کا روضہ
کیسا ہے پیارا پیارا یہ سبز سبز گنبد
فِردوس کی بُلندی بھی چھُو سکے نہ اس کو
مکّے سے اِس لئے بھی افضل ہوا مدینہ
کعبے کی عظمتوں کا مُنکِر نہیں ہوں لیکن
آنسُو چَھلَک پڑے اور بے تاب ہوگیا دِل
ہوگی شَفَاعت اُس کی جس نے مدینے آکر
بَادَل گھرے ہوئے ہیں بارِش برس رہی ہے
ہِجر و فِراق میں جو یارب! تڑپ رہے ہیں
ہَژدہ ہزار عالَم کا حُسن اِس پہ قرباں
اُس آنکھ پر نہ کیوں کر قربان میری جاں ہو
جِس وقت رُوح تَن سے عطارؔ کی جُدا ہو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
