میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
نہیں عرش و فرش پر ہی تری عظمتوں کے چرچے
وہ تری عطا کے تیور، وہ ہجوم گرِد کوثر
کسی وقت یا محمد کی صدا کو میں نہ بھُولا
مرے ہاتھ آگئی ہے یہ کلید قُفلِ مقصد
کوئی یاد آ رہا ہے مرے دل کو آج شاید
وہ برابری کا تُو نے دیا درس آدمی کو
یہ اثر ہے تیری سنت کے مذاق سادگی کا
ترے لطف خسروی پر مرا کٹ رہا ہے جیون
مجھے اس قدر جہاں میں نہ قبول عام ملتا
تری مہر کیا لگی کہ کوئی ہنر نہ ہوتے
یہ تری دعا کہ ہے کچھ اھی ہم میں وضع داری
میں ترے نثار آقا ! یہ حقیر پر نوازش
ترا اُمتی بس اتنی ہی تمیز کاش کر لے
کڑی دھوپ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غم
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
