تِرے در سے ہے منگتوں کا گزارا یاشہِ بغداد
مِری قسمت کا چمکا دو ستارہ یاشہِ بغداد
اجازت دو کہ میں بغداد حاضِر ہو کے پھر کر لوں
غمِ شاہِ مدینہ مجھ کو تم ایسا عطا کر دو
مدینے کا بنا دو تم مجھے کچھ ایسا دیوانہ
خدا کے خوف سے روئے نبی کے عشق میں روئے
گناہوں کے مَرَض نے کر دیا ہے نیم جاں مجھ کو
مجھے اچھا بنا دو مرشِدی بے شک یقیناً ہیں
سُدھارو مرشِدی لِلّٰہ اپنے ڈِھیٹ بَرْدے کو
ہوئی جاتی ہے اُوجَڑ اب مِری اُمّید کی کھیتی
کرم میراں !مِرے اُجڑے گلستاں میں بہارآئے
شہا! خیرات لینے کو سَلاطینِ زمانہ نے
گرجتے بادلوں کا شور چلتی آندھیوں کا زور
بچالو دشمنوں کے وار سے یا غوث جیلانی
وسیلہ چار یاروں کا خدا سے بخشوا دیجے
اگرچِہ لاکھ پاپی ہے مگر عطارؔ کس کا ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\