تمہارے مقدَّر پہ رشک آ رہا ہے
خدا اور نبی کا کرم ہو گیا ہے
سبھی بچّیوں کے بَہمراہ ماں باپ
خدائے محمد ہو حامی و ناصر
زُبان اور آنکھوں کا قفلِ مدینہ
تم اِحرام میں خوب لبیک پڑھنا
حجازِ مقدّس کی گلیوں میں ہر گز
ادب خوب مکّے مدینے کا کرنا
جو ہے باادب وہ بڑا بانصیب اور
نظر پیارے کعبے پہ پہلی پڑے جب
وہاں خوب رو رو کے کرنا دُعائیں
نظر سبز گنبد کو جس وقت چُومے
دُرُود و سلام اورنعتوں کی دھومیں
عبادت ریاضت تلاوت سے غفلت
مدینے میں مکّے میں اِک ایک قراٰں
خریداریوں میں تم انمول اوقات
بَہُت کھانے پینے سے پرہیز کرنا
پریشانیوں میں زُباں بند رکھنا
کوئی جھاڑ دے تب بھی نرمی بَرَتنا
گو آفات و اَمراض ڈیرا جمائیں
طواف و سعی گرچِہ تم کو تھکا دیں
مِنیٰ اور عَرفات میں بھیڑ ہو گی
دعاؤں میں عطاّرؔ کو یاد رکھنا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
