اے بِیابانِ عَرب تیری بہاروں کو سلام
جَبَلِ نور و جَبَلِ ثَور اور ان کے غاروں کو سلام
جھومتے ہیں مسکراتے ہیں مُغیلانِ عَرَب
رات دن رحمت برستی ہے جہاں پر جھوم کر
عشق میں دیوارِ کعبہ سے جو لپٹے ہیں وہاں
حجرِ اَسود، باب و میزاب و مقام و مُلتَزم
مُستجار و مُستجاب و بیرِ زم زم اور مَطاف
رکنِ شامی و عراقی و یمانی کو بھی اور
جو مسلماں خانۂ کعبہ کا کرتے ہیں طواف
خوب چُومے ہیں قدم ثَور و حِرا نے شاہ کے
مَدنی مُنّوں کا بھی حملہ خوب تھا بوجَہل پر
جگمگاتے گنبدِ خضرا پہ ہو رحمت مُدام
منبر و محرابِ جاناں اور سُنہری جالیاں
سیِّدی حمزہ کو، اور جُملہ شہیدانِ اُحُد
جس قدر جنّ وبشر میں تھے صحابہ شاہ کے
جس جگہ پر آکے سوئے ہیں صَحابہ دس ہزار
شوقِ دیدارِ مدینہ میں تڑپتے ہیں جو، اُن
غسلِ کعبہ کا بھی منظر کس قَدَر پُر کیف ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\