یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
دیکھا ابھی ابھی ہے نظرنے جمال یار
سنتے ہیں جانکنی کاہےلمحہ بہت کٹھن
میرے کریم میں ترے درکا فقیر ہوں
گر جیتنا ہےعشق میں، لازم یہ شرط ہے
یہ جان بھی ظہوری نبی کے طفیل ہے
— Muhammad Ali Zahoori\
یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
دیکھا ابھی ابھی ہے نظرنے جمال یار
سنتے ہیں جانکنی کاہےلمحہ بہت کٹھن
میرے کریم میں ترے درکا فقیر ہوں
گر جیتنا ہےعشق میں، لازم یہ شرط ہے
یہ جان بھی ظہوری نبی کے طفیل ہے
— Muhammad Ali Zahoori\
جہاں پیوندِ ظلمت بن گۓ روزن مکانوں کے
اک اندھی رات تھی جو ریت پر لہریں بناتی تھی
سراۓ دہر میں مہمان تھےصدیوں کے سناٹے
تمہاری رہ گزر میں کوئی جتنی دور جاتا ہے
مخالف سمت جائیں تو سفینے ٹوٹ جاتے ہیں
کتابِ زندگی رکھتے ہیں تابِ زندگی کم ہے
— Ghulam Muhammad Qasir\
بگڑی بناؤ مکی مدنی
دید تری ہو عید میری
محشر میں ہو لب پہ میرے
گنبدِ خضریٰ کے ساۓ تلے
اپنے نواسوں کا صدقہ
اسدیؔ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے
— Unknown
یا شفیع امم اللہ کر دو کرم
منتشرہیں خیالات کی وادیاں
تیری چوکھٹ کے مانگت ہیں جائیں کہاں
تیری یادوں سے معمور سینہ رہے
کس کو جا کر کہیں تاجدار حرم
یانبی اپنی الفت کی سوغات دے
چھوڑ کر تیرا در کیوں پھروں در بدر
حاضری ہو نیازی کی دربار میں
— Abdul Sattar Khan Niazi\
حضورؐ اقدس زمانے بھر سے گۓ تھے جو تیرگی مٹا کر
یہ زر کے بندے ترے دفینوں پہ ناگ بن کر ڈٹے ہوۓ ہیں
غریب اور بے نوا کے اے دستگیر اندھیر ہورہا ہے
مذاق اڑاتے ہیں، جو اخوت کا نام بھی آج لے رہا ہو
جو نام لے حق کا اس کی گردن میں کفر کا طوق باندھتے ہیں
اسی تعدی کے روکنے کو جہاں میں بعثت ہوئی تھی تیری
میں کچھ ہوں تیرا ہی نام لیوا ہوں میری گردن نہ جھک سکے گی
— Farigh Bukhari\
انبیا کے سروَر و سردار پر لاکھوں سلام
رب کے محبوب احمدِ مختار پر لاکھوں سلام
چارۂ بے چار گاں پر ہوں دُرُودیں صد ہزار
پُرضِیا پُرنور پیاری پیاری داڑھی پر دُرُود
جُبّۂ اقدس پہ چادر پر عِمامے پر دُرُود
رحمتیں لاکھوں ابوبکر و عمر عثمان پر
کربلا کے ہر شہیدِ باوفا پر رحمتیں
ہے یقینا ہر صَحابی جاں نثارِ مصطَفٰے
مسجدِ نبوی کے محراب اور منبر پر دُرُود
دشت وکُہسارِمدینہ،خاکِ طیبہ پردُرُود
مہکی مہکی بھینی بھینی ہے مدینے کی فَضا
خوب بھیجو مل کے دیوانو!ادب سے جھوم کر
قبر میں لہرائیں گے جس وقت جلوے نور کے
اے مدینے کے مسافِر!لے کے جا میرا پیام
یانبی!جتنے بھی دیوانے یہاں موجود ہیں
میرے پیارے پیرو مرشِد سیِّدی غوثُ الورٰی
جو گیا اجمیر میں دل کی مُرادیں پا گیا
سیِّدی احمد رضا نے خوب لکّھا ہے کلام
ہوچکے ہوں گے جہاں میں جس قدر بھی اولیا
مغفِرت کر اے خدا عطارِؔ بداَطوار کی
میٹھے مرشِد نے بقیعِ پاک میں پایا مزار
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
آؤ تسبیح صبح و شام کریں
ہر طرف جان و دل بچھا دیجئے
چشمِ تر، سوز آرزو لے کر
آج وہ پوچھنے تو آئے ہیں
ان کا آنا تھا کچھ خبر نہ رہی
ان کے کوچے میں سر کے بل جا کر
ان کی دہلیز چومنے والے
تیری طلعت مہ ربیع میں ہے
جل اٹھے گا یہ عالم ہستی
ان کی زلفیں لہر کے محشر میں
تیرے چہرے کی چاندنی کے شہید
کیا عجب ہے وہ مہرباں ہو کر
جن کو حسن ازل میں ڈھلنا ہو
تم من و تو کی الجھنوں کے لئے
کوئی بجلی جلا ہی دے شاید
تو بھی آ کاسۂ نظر لے کر
تو ہمیں یا بھی کرے نہ کرے
راز ہستی کھلے نہیں طاہؔر
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
گر اجازت ہو محمدؐ کی تو میں نعت کہوں
میرے باطن کو اجالیں جو پسِ چشم گریں
اسم ایسا کہ رگِ جاں میں اترتا جاۓ
وہ جو رستوں کے اندھیروں کو مٹانے جائیں
جن کی توصیف میں قرآن اتارا جاۓ
— Ayesha Masood Malik\
اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
اے نورِ خدا آ کر آنکھوں میں سما جانا
میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا
حد کوئی نہیں دیکھو سرکار کی رحمت کی
تیرے سے ضیا پائی ان چاند ستاروں نے
محبوبِ الٰہی سا کوئی نہ حسین دیکھا
مجرم ہوں زمانے کا محشر میں بھرم رکھنا
— Unknown
اپنے قدموں میں بلا خواجہ پیا خواجہ پیا
ہو کرم بَرحالِ ما خواجہ پیا خواجہ پیا
آہ! کتنی دیر سے میں دور ہوں اجمیر سے
مصطَفٰے کی انبیا کی ہر صحابی اور ولی
یا مُعینَ الدّین اجمیری! کرم کی بھیک دو
شَبَّرو شَبِّیر کا صَدْقہ بلائیں دُور ہوں
آفتوں کی آندھیاں کر دُور دے اَمْن و اماں
دل سے دنیا کی مَحبَّت کی مصیبت دُور ہو
تیری اُلفت میں جیوں تیری مَحبَّت میں مَروں
جھولیاں بھرتے ہو منگتوں کی مجھے بھی ہو عطا
نَے میں سائل راج کا نَے تخت کا نَے تاج کا
یہ سگِ دربار خواجہ! طالبِ دیدار ہے
دشمنوں میں ہوں گِھرا صِدّیق کا صَدْقہ بچا
اُونٹ بیٹھے اُٹھ نہ پائے سارْباں حیران تھے
آ گیاسارا ’’اَناساگر‘‘ تری چھاگَل میں خوب
اپنی منزل سے کبھی بھی وہ بھٹک سکتا نہیں
استِقامت مذہبِ اسلام پر مل جائے کاش!
خاتِمہ بِالخیر ہو میٹھے مدینے میں مِرا
حج کی مل جائے سعادت سبز گنبد دیکھ لوں
کاش!قسمت سے مدینے میں شہادت پاؤں میں
ہو بقیعِ پاک میں تدفین میری خیر سے
ایک ذرّہ ہو عطا عطاّرؔ کے ہو جائیگا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\