ہو جو توفیق تو بس نعتِ پیمبرؐ لکھوں
مجھ سیہ کار کو بھی جس نے دیا اذنِ سلام
روز ہوتی ہے جہاں ایک نئی بارشِ نور
دولتِ صبر و قناعت جسے مل جاۓ یہاں
سب جہانوں میں اسی نام کا جلتا ہے چراغ
خاک اس در کی مری آنکھوں کا سرمہ ہے کلیمؔ
— Kaleem Usmani\
ہو جو توفیق تو بس نعتِ پیمبرؐ لکھوں
مجھ سیہ کار کو بھی جس نے دیا اذنِ سلام
روز ہوتی ہے جہاں ایک نئی بارشِ نور
دولتِ صبر و قناعت جسے مل جاۓ یہاں
سب جہانوں میں اسی نام کا جلتا ہے چراغ
خاک اس در کی مری آنکھوں کا سرمہ ہے کلیمؔ
— Kaleem Usmani\
بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ
جی چاہے ہے تحفے میں دے دوں میں تجھے آنکھیں
سنگ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں ساعی
اتنا تو کرم کرنا اےچشمِ کریمانہ
میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے
کیوں آنکھ ملائی تھی کیوں بات بڑھائی تھی
بیدؔم میری قسمت میں سجدے ہیں اسی درکے
— Bedam Shah Warsi\
اب کرم یامصطَفیٰ فرمائیے
یاحبیبِ کبریا حج کا شَرَف
حاضری کی اب سعادت پاؤں میں
خواب میں آکرکے کچھ شیریں کلام
جن پہ صدقے جائیں سب جنت کے پھول
یارسولَ اللہ میری مغفرت
استِقامت دین پر ہم کو عطا
کب تلک تڑپیں اَسیرانِ قَفَس
آپ کی الفت میں ہو رونا نصیب
دُور پیارے مصطَفٰے رنج و بلا
آپ کے قدموں میں ہو جاؤں شہید
مجھ کو لِلّٰہ اِک چھلکتا ساقیا
اپنے عاصی کی شَفاعت حشْر میں
مَدنی بُرقَع پہنیں سب بہنیں، کرم
ماہِ میلاد آگیا گھر گھر پر اب
عیدِ میلادُ النّبی پھر آ گئی
عید آئی عید، عیدوں کی بھی عید
جھوم کر سارے خوشی سے باربار
یارسولَ اللہ کہئے زور سے
گنبد خضرا کے جلوے ہوں نصیب
دیجئے دردِ مدینہ دیجئے
میرا سینہ ہو مدینہ یانبی
دیجئے سوزِ رضا سوزِ ضیا
نعمتِ اَخلاق کر دیجے عطا
غیبت و چغلی کی آفت سے بچیں
ہم ریاکاری سے بچتے ہی رہیں
نفس و شیطاں کی شرارت دور ہو
دم لبوں پر آگیا عطاّرؔ کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
سند میری غلامی کی رقم کر دیجیے آقاؐ
بہت مشکل میں ہے امت، بہت مشکل میں ہے امت
سنا ہے احترام آدمی ملتا وہیں سے ہے
مری اوقات سے بے حد زیادہ ہیں یہ غم میرے
— Irfan Ul Haq Saim\
دلوں میں نقشِ عظمتِ حبیبِ کبریا لیے
ہمارا مقصدِ حیات ذکرِ شانِ مصطفیٰ
نقیبِ عدل و امن ہیں پیامئ اماں ہیں ہم
وہ کون ہیں جو لائیں گے یہاں نظام مصطفیٰ
نشانِ شیطنت جہاں سے بالیقین مٹائیں گے
نظامِ مصطفیٰ ہے کیا پیام ہے حیات کا
— Unknown
جمال روۓ نبیؑ، حسن کبریا ہے علیؑ
کچھ اس لیے بھی توحیدرؑ ہےشہرعلم کادر
ادھر ادھر کا سوالی نہ بن نہ عمرگنوا
صدا یہ آج بھی آتی ہے باب خیبر سے
حرم میں بت شکنی کا مظاہرہ دیکھو!
خبر تھی گرم کہ معراج کا سفر ہو گا
خدا کےدین، تری زندگی سلامت ہے
ہزارسامری سانپوں میں گھر کے خوف نہ کھا
علیؑ سے معرفت علم کی زکوٰۃ چلی
یہی صراطِ حقیقت، یہی سراج ازل
علیؑ کےپہلے پہر کی التماس نبیؐ
بکھر کے بولتے قرآن کا سراپا ہے
اسی کے نام کا نعرہ ہے ارتعاش وجود
علیؑ علیؑ سے منور گلی گلی محسن
— Mohsin Naqvi\
آدمیت کی علامت ہے ولاۓ مصطفیٰؐ
ہے رضاۓ مصطفیٰؐ میں رب کعبہ کی رضا
کچھ نہیں معلوم کیا ہے قصہء ذات و صفات
شکلِ انسانی میں قرآن مجسم آپؐ ہیں
حشر کی گرمی اسے کچھ بھی ستا سکتی نہیں
دو جہاں کی بادشاہی سے بڑا ہے یہ شرف
آرزو دل میں یہ رکھتا ہوں خدا پوری کرے
— Kausar Niazi\
بلا لو پھر مجھے اے شاہِ بحر و بر مدینے میں
میں پہنچوں کوئے جاناں میں گریباں چاک سینہ چاک
مدینے جانے والو جاؤ، جاؤ فی امان اللہ
سلام شوق کہنا حاجیو میرا بھی رو رو کر
مدینے جب میں پہنچوں کاش ایسا کیف طاری ہو
نہ ہو مایوسی دیوانو پکارے جاؤ تم ان کو
مدینہ اس لئے عطار جان و دل سے پیار ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اپنا غم یاشہِ انبیا دیجئے
چَاک سینہ شہِ دوسَرا دیجئے
مُجھ کو آقا مدینے بُلا لیجئے
دَر پہ بُلوا کے جلوہ دِکھا دیجئے
التجا ہے مِری یَاحبیبِ خدا
سوزِ اُلفت کے دل میں جَلائے دیے
مجھ کو اَحباب تنہا چلے چھوڑ کر
ہے گناہوں کا اَنبار سلطانِ دیں!
کاش! نیکی کی دعوت میں دوں جابَجا
پھر عَرَب کی حسیں وادِیاں دیکھنے
ہے تمنّائے عطّارِؔ اَندَوہ گِیں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
ہزار پیش کروں تجھ کو میں سلام ہوا
میں خاکِ طیبہ کو آنکھوں میں بھر کے آیا ہوں
کھلاۓ جاتی ہے شاخوں پہ پھول مدحت کے
یہ جب سے گنبدِ خضریٰ کو چھو کے آئی ہے
تیری تو شہرِ مقدس سے پے شناسائی
— Irfan Sadiq\