کتنی بلندیوں پہ ہے ایوان فاطمہؑ
حاصل کہاں دماغ کو عرفان فاطمہؑ
کیا سوچۓ بہار گلستان فاطمہؑ
کچھ اس لۓ بھی مجھ کو تلاوت کا شوق ہے
اس کو مٹا سکیں گی نہ باطل کی سازشیں
کرتے پھریں زمیں پہ تجارت بہشت کی
ہرنقش پا میں جزب ہےفتح مبیں کی مہر
مفہوم "ماتشاء" کی قسم کائنات میں
وہ کل بھی "پنجتن'' میں صدارت مقام تھی
ہے کفر اس کے قول پہ حاجت گواہ کی
اس انتظار میں ہے قیامت رکی ہوئی
کیسےکروں تمیز حسنؑ اور حسینؑ میں
رومال فرق حر ہے گواہی اس امر کی
باب بتول ہوکہ درِ خیمۃ حسینؑ
میں سوچتا ہوں لکھ دوں وفا کےنصاب میں
اک مرثیہ ہے خون شہیداں کی بوند بوند
نیزے کی نوک پر ہے مجھے رحل کا گماں
دیکھ اے مزاج مصحفِ ناطق کی برہمی
باب بہشت پر مجھے روکے گا کیوں کوئی
— Mohsin Naqvi\
