چھڑا دیتی ہے فکرِ غیر سے تاثیرِ میخانہ
پڑھو بادَہ گسارَو ان نمازِ خود فراموشی
کھڑا ہے جھومتا کوئی پڑا ہے لوٹتا کوئی
نہ دے مینا، نہ دے ساغر، مجھے اس کی نہیں حاجت
گنہ گاروں میں مئے عشقِ حق تقسیم ہوتی ہے
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
چھڑا دیتی ہے فکرِ غیر سے تاثیرِ میخانہ
پڑھو بادَہ گسارَو ان نمازِ خود فراموشی
کھڑا ہے جھومتا کوئی پڑا ہے لوٹتا کوئی
نہ دے مینا، نہ دے ساغر، مجھے اس کی نہیں حاجت
گنہ گاروں میں مئے عشقِ حق تقسیم ہوتی ہے
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
اے کاش! شبِ تنہائی میں ، فُرقت کا اَلَم تڑپاتا رہے
بے تاب جگر،قلبِ مُضطَر،دے دیجئے سرور! چشمِ تر
بے چَین رہوں بے تاب رہوں ،میں ہچکیاں باندھ کے روتارہوں
میں عشق میں یوں گم ہو جا ؤں ،ہر گز نہ پتا اپنا پاؤں
جب آؤں مدینے روتا ہوا،ہو سامنے جب رَوضہ تیرا
بے کس ہوں شہا! میں دُکھیارا،لوگوں نے مجھے ہے دُھتکارا
صد شکر خدایا تُو نے دیا،ہے رَحمت والا وہ آقا
جب گرمیِ حشر ہو زَوروں پر،اُس وقت تمنّا ہے سروَر!
ہے میر ی تمنّاربِّ جہاں ،ہر خُرد وکلاں ہر ایک جواں
ہے تجھ سے دعا ربِّ اکبر! مقبول ہو ’’فیضانِ سنّت‘‘
جب میرا یاور ہے سروَر،پھر ڈر محشر کا ہو کیو نکر!
جب تن سے جدا ہو جاں مُضطَر اُس وقت ہو جلوہ پیشِ نظر
یارب! یہ دعا عطاّرؔ کی ہے جس وقت تلک دنیا میں جئے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اُن کی نسبت جب ملی تو زندگی اچھی لگی
ہو گیا جب میرا ان نعت خوانوں میں شمار
جاکے جب دیکھی ہے آنکھوں سے مدینے کی بہار
جب بنے سارے نبی اقصیٰ میں ان کے مقتدی
مہرومہ کے نور سے روشن ہے گرچہ کائنات
ہر گدا پاتا ہے ان کے در سے دل کی ہر مراد
دوجہاں کی نعتیں دامن میں اس کے آگئیں
سوۓ جنت گنبدِ خضریٰ کے ساۓ میں چلو
ہوگۓ لاکھوں ہی انساں اس سے وابستہ جسے
قیصری مجھ کو کبھی اچھی لگی نہ اے ریاضؔ
— Unknown
میرا حسین باغ نبوت کا پھول ہے
آلِ نبی کا پیار ہے ایماں کی زندگی
دنیا میں اور کون ہےشبیر کو سوا
ایسی عظیم ذات ہے آقا حسین کی
جس کےلۓ یزید نے اتنے ستم کۓ
جو جی میں آۓ ان کےگھرانےسےمانگ لے
— Unknown
شفاعتوں کے فلک پر عجب سحاب کھلے
نصیب خلق ہوئی آفتاب علم کی دھوپ
مصافِ جنگ و جد ہو کہ شہرِ امن و اماں
ترے جمال سے شرمندہ جلوۃ خورشید
تو سائبان کی صورت محیط عالم پر
ہمارے نام کے آگے بھی حرفِ بخشش لکھ
میں اس امید پہ کرتا ہوں نعت نذر حبیبؐ
— Mohsin Ehsan\
فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\
ایسا کرم کیا گیا بختِ شکستہ حال پر
بیٹھا ہوں گرچہ فرش پر، چرچے ہیں میرے عرش پر
گرد و غبار سے بچا، اور دیار سے بچا
رحمتِ دوجہاں کا نام، میرے بنا گیا ہے کام
رُخ سوۓ طیبہ کرلیا، سینے میں نور بھر لیا
سائلِ مصطفیٰؐ ہوں میں، شاعرِ نعتیہ ہوں میں
اذنِ حضورؐ ہوگیا، دل میں سرور بوگیا
مجھ سے کیا گیا حسد، آپ نے بخش دی مدد
یہ جو نبیؐ کی نعت ہے، میری یہی برات ہے
— Ali Yasir\
آپؐ کی مدح ہے کس کے امکان میں
حمد کے حرف لکھوں کہ میں نعت کے
اس کو کہتے ہیں تکمیلِ انسانیت
ہم نبیؐ کی محبت سے باہر کہاں
اسوۃ مصطفیٰؐ کا چراغ آج بھی
— Mehshar Badayuni\
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
ہر خواہشِ نفس میری اک بت ہے میرے دل کا
جو رنگ کہ جامی پر رومی پہ چڑھایا تھا
خرقانی و بسطامی منصور نے جو پی تھی
قدرت کی نگاہیں بھی جس چہرے کو تکتی تھیں
اے کاش ریاضؔ آۓ مژدہ یہ مدینے سے
— Unknown
اے خاکِ مدینہ ! تِرا کہنا کیا ہے
شَرَف مصطَفٰے کے قَدم چُومنے کا
مُعَطَّر ہے کتنی تُو خاکِ مدینہ
لگاؤ تم آنکھوں میں خاکِ مدینہ
مریضو! اُٹھا کر کے خاکِ مدینہ
مدینے کی مِٹّی ذرا سی اُٹھاکر
عقیدت سے خاکِ مدینہ بدن پر
تُجھے واسِطہ خاکِ طیبہ کا یاربّ!
ہمیں موت خاکِ مدینہ پر آئے
مِری نَعش پر آپ خاکِ مدینہ
پسِ مَرگ مولیٰ تُو مٹّی ہماری
بدن پر ہے عطّارؔ کے خاکِ طیبہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\