پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
حوروں نے بھی گایا یہ ترانہ شبِ معراج
گیسو کھلے گھنگھور گھٹا اُٹھی کہ ہم پر
اے رحمت عالم تیری رحمت کے تصدق
جس وقت چلی شاہِ مَدینہ کی سواری
خورشید و قمر اَرض و سما عرش و مَلائک
وہ جوش تھا اَنوار کا اَفلاک کے اُوپر
مہمان بلانے کے لیے اپنے نبی کو
یہ شانِ جلالت کہ نہایت ہی اَدب سے
جبریل بھی حیران ہوئے دیکھ کے رُتبہ
جبریل تھکے ہوگئے سرکار روانہ
ہمراہ سواری کے تھیں اَفواجِ مَلا ئک
یوں مسجد اَقصیٰ میں نماز اس نے پڑھائی
ہر ایک نبی بلکہ سب اَفلاک کے قدسی
جانِ دوجہاں رِفعت سرکار پہ قرباں
مُدت سے جو اَرمان تھا وہ آج نکالا
آراستہ ہو خلد مؤدب ہوں فرشتے
پیہم چلی آتی تھیں دُعاؤں کی صدائیں
تھی راستہ بھر اُن پہ دُرُودوں کی نچھاور
دولہا تھے محمد تو براتی تھے فرشتے
اللہ کی رحمت سے وہ مہکا گل وَحدت
روشن ہوئے سب اَرض و سما نور سے اس کے
تھا چرخِ چہارُم پہ کوئی طور کے اُوپر
جب پہنچے مقامِ فَتَدَلّٰی پہ محمد
اے صَلِّ عَلٰی بزمِ تَدَلّٰی میں پہنچ کر
ممکن ہی نہیں عقل دوعالم کی رَسائی
عرش و مَلک و اَرض و سما جنت و دوزخ
تفصیل سے کی سیر مگر اس پہ یہ طرہ
زنجیر در پاک کی ہلتی ہوئی پائی
اے ماہِ مَدینہ تری تنویر کے قرباں
لو عاصیو وہ تم کو وہاں پر بھی نہ بھولے
اے مومنو مژدہ کہ وہ اللہ سے لائے
بھیجوں گا میں اُمت کو تری خلد میں پہلے
اُس میں سے جمیلؔ رضوی کو بھی عطا ہو
— Jamil Ur Rehman Qadri\