آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
خزاں رتوں میں کھلے ہیں کھجور کے پتے
یہاں سے قافلۃ دینِ حق گزرنا ہے
میں چھوکے پاۓ محمدؐ کی خاک ڈھونڈتا ہوں
جلا ہوں دشتِ گماں کی جھلتی دھوپ میں جب
رہے ہیں شعبِ ابی طالب آپ کے ساتھی
پھر ان کے پھل میں کبھی گٹھلیاں نہیں آئیں
— Qasim Yaqoob\
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
تجلیات سے بھر لوں میں اپنا کاسۂ جاں
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
ملے مجھے بھی زبانِ بوصیری و جامی
مزا تو جب ہے فرشتے یہ میں کہہ دیں
— Sabeeh Rehmani\
جس کا دشتِ بلا میں ڈیرا ہے
ڈوبا کربل میں نکلا جنت سے
ظالموں کی بکھر گئی لاشیں
قلب و ذہن و خیال میں میرے
پھر پکارو حسینؑ کو لوگو
آنے والا ہے وقت ہر کوئی
کیوں نہ اُس کو پکاروں میں ناصرؔ
— Syed Nasir Hussain Chishti\
میں تو ہر حال میں خوش رہوں آپؐ سے
کامرانی بھی پھر پاؤں چومے مری
آپؐ ہیں آسرا بے کسوں کے لیے
خواب ہی میں عطا ہو یہ اعزاز بھی
ایک نسبت سے پہچانے دنیا مجھے
— Qaim Naqvi\
ہر جا بج رہا ہے سرکار کا ترانہ
نوری بھی پڑھ رہے سرکار کا ترانہ
سارے جہاں کے اندر جس وقت جا کے دیکھو
لب چومتے ہیں اُس کے آکے فرشتے نوری
کعبے کا ہر مینار فلکوں کا تارا تارا
حورو غلماں سارے ثاقبؔ ہر وقت پڑھ رہے ہیں
— Unknown
خوابوں میں مدینے کی فضا دیکھنے والا
نظروں میں رہے جس کے جمالِ شہِؐ والا
نبیوں میں، وہ بندوں میں، بشر میں جہاں دیکھو
روشن ہے ازل سے جو مرے گوشہء دل میں
دنیا کا طلب گار رہا ہے نہ رہے گا
پابندی احکام خداوندی یہی ہے
قدموں سے میں مسرور لپٹ جاؤں، جو مل جاۓ
— Masroor Kaifi\
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
رَنج و اَلم میں مبتلا وہ ہے جو تجھ سے پھر گیا
اے بندگانِ مُحْیِ دِیں دِل سے ذرا فریاد ہو
محبوبِ سبحانی ہو تم مقبولِ رَبانی ہو تم
ہوں نام لیوا آپ کا عاصی سہی مجرم سہی
بغداد کی گلیوں میں ہو آقا مرا لاشہ پڑا
کیوں پوچھتے ہو قبر میں مجھ سے فرشتو دَم بدم
جب رُوبرو قہار کے دَفتر کھلیں اَعمال کے
مشکل پڑی جو سامنے آئی ندا بغداد سے
اَفکار میں ہوں مبتلا کوئی نہیں تیرے سوا
اُٹھ بیٹھ گنبد سے ذرا چمکا دے بخت اِسلام کا
تاریک شب چوروں کا بن ساتھی نہ کوئی راہبر
قسمت ہی کھل جائے مری گر اے جمیلؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\
بلند شان فلک مرتبہ امام حسینؑ
قرارِ جان ودل مُرتضیٰ امامِ حسینؑ
خدا پرست خدا آشنا امامِ حسینؑ
سوارِ شانۃ خیرالوریٰ امامِ حسینؑ
لیا پناہ میں بےآبرو نہ ہونے دیا
نظروں کےسامنےگو لختِ دل شہید ہوۓ
وہ جن کےناز اٹھاتے تھےجبرائیل امین
کٹایا سر نہ دیا دستِ خود بہ دست یزید
ادا نہ کی ہےکسی نے نہ کرسکے گا کوئی
ہوا نہ ارض و سما میں کوئی امامِ حسینؑ
خلیل صاحب ایثار تو ہوۓ انورؔ
— Anwar Feroze Puri\
ہم درِ آقا پہ سر اپنا جھکا لیتے ہیں
اس کو آنکھوں پہ بٹھاتے ہیں زمانے والے
وقت کی قید نہیں، ہیں یہ کرم کی باتیں
غم کے ماروں کا طبیبو نہ کرو کوئی علاج
پتھرو تم تو ہو پتھر مگر آقا میرے
جب نہیں ملتی کہیں سے بھی سکوں کی دولت
یہ بھی سرکار کی رحمت ہے کرم ہے ان کا
گنبد خضریٰ خدا تجھ کو سلامت رکھے
جب سے دیکھا ہے نیازی وہ ریاض الجنۃ
— Unknown