بشر سے غیر ممکن ہے ثنا حضرت محمد کی
پسند حق ہوئی صَلِّ عَلٰی صورت محمد کی
ہے مژدہ مومنوں کو مَنْ رَّاٰنِیْ قَدْ رَاَ الْحَقَّ
بشر جن و مَلک ہرگز نہیں ممکن کہ پہچانیں
خدا سے اپنی اُمت کے لیے پوچھا جو موسیٰ نے
ہوئے بت سرنگوں آتش کدہ میں زَلزلہ آیا
الٰہی بندئہ ناچیز کی تجھ سے دُعا یہ ہے
بھکاری نعمتوں سے بھر رہے ہیں جھولیاں اپنی
یہ رحمت ہے کہ دیتے ہیں دعائیں دشمنوں کو بھی
چمکتی تھی وہ بجلی تیغِ سلطانِ رِسالت کی
بھرے ہیں جیب و داماں نعمتوں سے دونوں عالم کے
محبت رکھتے ہیں محبوبِ حق اپنے غلاموں سے
خدا اس واسطے قائم کرے گا بزمِ محشر کو
دِکھائی اپنی تیزی آفتابِ حشر نے جس دم
گنہگارو کہاں پھرتے ہو سرگرداں اِدھر آؤ
جسے کہتے ہیں محشر عید ہے وہ اَہلسنّت کی
بنائے جائیں گے مہماں غلامانِ رسول اللہ
نہ کیوں ہو ناز قسمت پر اگر اس طرح دم نکلے
دعا ہے یہ جمیلؔ قادری کی حق تعالیٰ سے
غزل اِک اَور بھی پڑھ اے جمیلؔ قادری رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\