کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی
کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دِیدہ چمن میں
نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ
بادَل سے جو رحمت کے سرِ شام گھرے ہیں
کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے
کھلتا نہیں کس جانِ مسیحا کی ہے آمد
بت خانوں میں وہ قہر کا کہرام پڑا ہے
کعبہ کا ہے نغمہ کہ ہوا لوث سے میں پاک
تسلیم میں سر وجد میں دل منتظر آنکھیں
اے کفر جھکا سر وہ شہ بت شکن آیا
کچھ رعبِ شہنشاہ ہے کچھ ولولۂ شوق
پرنور جو ظلمت کدۂ دہر ہوا ہے
ظاہر ہے کہ سلطانِ دو عالم کی ہے آمد
گر عالم ہستی میں وہ مہ جلوہ فگن ہے
ہاں مفلسو خوش ہو کہ مِلا دامن دولت
تعظیم کو اُٹھے ہیں مَلک تم بھی کھڑے ہو
کل نارِ جہنم سے حسنؔ اَمن و اَماں ہو
— Hassan Raza Khan Barelvi\