افسوس وقتِ رخصت نزدیک آرہا ہے
دل میں خوشی تھی کیسی جب میں چلا تھا گھر سے
ہے فرقتِ مدینہ سے چاک چاک سینہ
آنکھ اشکبار ہے اب دل بے قرار ہے اب
کیوں سبز سبز گنبد پر ہو گیا نہ قرباں
افسوس! چند گھڑیاں طیبہ کی رہ گئی ہیں
کچھ بھی نہ کرسکا ہوں ہائے ادب یہاں کا
اب روح بھی ہے مغموم اور جان بھی ہے حیراں
موت آپ کی گلی کی بہتر ہے زندگی سے
افسوس چل دیا ہے اب قافِلہ ہمارا
دل خون رو رہا ہے آنسو چھلک رہے ہیں
آہ! اَلفِراق آقا! آہ! الوداع مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
