فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا
طور پر ہی نہیں موقوف اُجالا تیرا
ہر جگہ ذِکر ہے اے واحد و یکتا تیرا
پھر نمایاں جو سر طور ہو جلوہ تیرا
خیرہ کرتا ہے نگاہوں کو اُجالا تیرا
جلوۂ یار نرالا ہے یہ پردہ تیرا
کیا خبر ہے کہ علی العرش کے معنی کیا ہیں
اَرِنِی گوئے سر طور سے پوچھے کوئی
پار اُترتا ہے کوئی غرق کوئی ہوتا ہے
باغ میں پھول ہوا شمع بنا محفل میں
نئے انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں
شہ نشیں ٹوٹے ہوئے دل کو بنایا اُس نے
سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم
طور کا ڈھیر ہوا غش میں پڑے ہیں موسیٰ
چار اَضداد کی کس طرح گرہ باندھی ہے
دَشت اَیمن میں مجھے خاک نظر آئے گا
ہر سَحر نغمۂ مرغانِ نواسنج کا شور
وحشیٔ عشق سے کھلتا ہے تو اے پردۂ راز
سچ ہے انسان کو کچھ کھو کے ملا کرتا ہے
ہیں تِرے نام سے آبادی و صحرا آباد
برقِ دیدار ہی نے تو یہ قیامت توڑی
آمدِ حشر سے اِک عید ہے مشتاقوں کو
سارے عالم کو تو مشتاقِ تجلی پایا
طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو
کام دیتی ہیں یہاں دیکھئے کس کی آنکھیں
میکدہ میں ہے ترانہ تو اَذاں مسجد میں
چاک ہو جائیں گے دِل جیب و گریباں کس کے
بے نوا مفلس و محتاج و گدا کون کہ میں
آفریں اہل محبت کے دلوں کو اے دوست
اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے
انگلیاں کانوں میں دے دے کے سنا کرتے ہیں
اب جماتا ہے حسنؔ اُس کی گلی میں بستر
— Hassan Raza Khan Barelvi\