بارگاہِ نبوی میں جو پذیرائی ہو
اپنی معراج کو پہنچی ہے مری فکر و نظر
میری آنکھیں تو ہیں انوارِ حرم سےروشن
زندگی مدحِ پیمبرؐ بسر ہو ایسے
جو نہ لرزے صفِ باطل کے مقابل آقاؐ
— Hafeez Taib\
بارگاہِ نبوی میں جو پذیرائی ہو
اپنی معراج کو پہنچی ہے مری فکر و نظر
میری آنکھیں تو ہیں انوارِ حرم سےروشن
زندگی مدحِ پیمبرؐ بسر ہو ایسے
جو نہ لرزے صفِ باطل کے مقابل آقاؐ
— Hafeez Taib\
کاش ہوتا مدینے میں گھر یا نبیؐ
یہ شجر یہ پرندے یہ کوہ و دمن
آسرا اور کوئی نہیں دوسرا
دل کو آیا سکوں آپ کا ہے کرم
اس کی قسمت کھلی بن گیا وہ ولی
آپؐ راضی تو راضی ہے ہم سے خدا
— Taj Ud Deen Taj\
اِلٰہی دِکھادے جمالِ مدینہ
عطا کیجئے حاضری کی سعادت
دِکھا دے مجھے سبز گنبد کے جلوے
پَہُنچ کر مدینے میں ہوجائے مولا
مجھے ’’چل مدینہ‘‘ کا مُژدہ سنادو
ہَوں پیارے نبی! ختْم لمحاتِ فُرقَت
غمِ عشقِ سَروَر خدایا عطا کر
خُدائے محمد ہمارے دلوں سے
سدا رَحمتوں کی برستی جَھڑی ہے
مُعَطّر مُعَطّر ہے سب سے ُمنوَّر
سبھی پارہے ہیں اِسی درسے میں بھی
قدم چوم کر سر پہ رکھ لینا عطّارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
تم بات کرو ہو نہ ملاقات کرو ہو
جو راہیں تیرے دیس کو نہ جاویں ہیں ویراں
بیٹھے ہیں سبھی سیج سجائے تیرے کارن
دنیا تیرے مانگت کی بھکارن ہے مہاراج
رتین میں کھلے رکھتے ہوں اکھین کے دریچن
تلوار کی حاجت ہو بھلا تم کو تو کیوں کر
کتنے ہی لگے پھرتے ہیں ساجن تیرے مانگت
جو نیست تھی تکنے سے ترے ہو گئی ہستی
رت پریم کے درداں کی کبھو بیت چکی طاہؔر
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
طیبہ کی طرف ہے عزم سفردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
طیبہ کی منور راگزردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
واللیل کا روشن منظرہے والشمس کے نوری جلوے ہیں
لو ظلمتِ شام رنج والم اب دورہوئی کافور ہوئی
خورشید مدینہ کے جلوے راتوں کو منور کرتے ہیں
جب تشنہء الفت نےپاۓ اس ابررحمت کے چھینٹے
دیوانہء عشق حضرت ہوں بےگانہء عقل وہوش نہیں
پھریاد مجھے بھی فرمایا سرکارِ مدینہ نے افضل
— Unknown
عرض کردے جاکےکوئی ان بہاروں کو سلام
اے صبا سوۓ مدینہ ہو اگر تیرا گزر
سبز گنبد پر بچھاتا ہےجوشب بھر چاندی
صبح دم آتی ہیں جوروضےکی جالی چومنے
— Unknown
کہاں زبانِ سخنن ور، کہاں ثناۓ حبیبؐ
یہ کائنات ہے لطفِ نبیؐ کی آئینہ دار
شریکِ خستہ دلاں دردمندائ حضرتؐ
خداۓ پاک کو مطلوب اتباعِ نبیؐ
مری لحد کو معنبر کرے گی یاد رسولؐ
نہ جانے کب ہو زیارت کی آرزو پوری
— Hafeez Taib\
اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں
اَلسَّلَام اے بادشاہِ دو جہاں
اَلسَّلَام اے نورِ ایماں اَلسَّلَام
اے شکیبِ جانِ مضطر اَلسَّلَام
دَرد و غم کے چارہ فرما اَلسَّلَام
اے مرادیں دینے والے اَلسَّلَام
دَرد و غم میں مبتلا ہے یہ غریب
نبضیں ساقط رُوح مضطر جی نڈھال
بے سہاروں کے سہارے ہیں حضور
ہم غریبوں پر کرم فرمائیے
بے قراروں کے سرہانے آئیے
جاں بلب کی چارہ فرمائی کرو
شام ہے نزدیک منزل دُور ہے
مغربی گوشوں میں پھوٹی ہے شفق
راہ نامعلوم صحرا پرخطر
طائروں نے بھی بسیرا لے لیا
ہر طرف کرتا ہوں حیرت سے نگاہ
سو بلائیں چشمِ تر کے سامنے
دل پریشاں بات گھبرائی ہوئی
ظلمتیں شب کی غضب ڈھانے لگیں
ان بلاؤں میں پھنسا ہے خانہ زاد
اے عرب کے چاند اے مہرِ عجم
فرش کی زینت ہے دَم سے آپ کے
آپ سے ہے جلوۂ حق کا ظہور
آپ سے روشن ہوئے کون و مکاں
اے خداوند عرب شاہ عجم
ہم سیہ کاروں پہ رحمت کیجیے
اپنے بندوں کی مدد فرمائیے
ہو اگر شانِ تبسم کا کرم
ظلمتوں میں گم ہوا ہے راستہ
ہاں دکھا جانا تجلی کی ادا
دیکھیے کب تک چمکتے ہیں نصیب
ملتجی ہوں میں عرب کے چاند سے
میں بھکاری ہوں تمہارا تم غنی
تنگ آیا ہوں دلِ ناکام سے
آپ کا دَربار ہے عرش اِشتِباہ
مانگتے پھرتے ہیں سلطان و امیر
غمزدوں کو آپ کر دیتے ہیں شاد
میں تمہارا ہوں گدائے بے نوا
میں غلامِ ہیچ کارہ ہوں حضور
اچھے اچھوں کے ہیں گاہک ہر کہیں
کیجیے رحمت حسنؔ پر کیجیے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
آئینۃ جمالِ الہٰی کی بات ہے
والیل مصطفیٰؐ کی ہے زلفوں کا تذکرہ
وَالعَجم اُنؐ کے عرش پہ جانے کا ہے بیاں
کوثر ہے اُن کی کثرتِ جود و عطا کا نام
بدر و احد ہیں دیں کی بلندی کے معرکے
اسمِ محمدیؐ پہ تبسم ہے جاں نثار
— Tabasum Nawaz Waraich\
آۓ نبیوں کے سلطان آۓ نبیوں کے سلطان
حوا مریم حوریں آئیں آمد کوسب جشن منائیں
سارے جگ میں دھوم مچی ہے آمنہ گھر نبیوں کانبی ہے
آقا کی نورانی صورت جودیکھےکرتا ہے تلاوت
بولے خدا خود اُن کی زبانی بات نبی کی سب نے مانی
موت کو مجھ پر پیار آۓ گا میرانصیب سنور جاۓ گا
آقا میرے خواب میں آنا ہم کو اپنا جلوہ دکھانا
دیکھیں ہم دن رات مدینہ دیتا ہے خیرات مدینہ
نعت کمالؔ آقا کی پڑھی ہےساری محفل جھوم رہی ہے
— Unknown