سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تلا ہوا
قربان اُن کے نام کے بے اُن کے نام کے
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے بیکسوں کے حامی و یاوَر سوا تِرے
اے کیمیائے دل میں تِرے دَر کی خاک ہوں
اُلجھن سے دُور نور سے معمور کر مجھے
دُکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں انہیں
کیوں طول دوں حضور یہ دیں یہ عطا کریں
دامن بھریں گے دولتِ فضل خدا سے ہم
— Hassan Raza Khan Barelvi\
