سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سر گزشت غم کہوں کس سے تِرے ہوتے ہوئے
بے لقائے یار ان کو چین آ جاتا اگر
کون کہتا ہے دلِ بے مُدَّعا ہے خوب چیز
مر ہی جاؤں میں اگر اس دَر سے جاؤں دو قدم
کس تمنا پر جئیں یارب اَسیرانِ قفس
بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہو گا کسے
خلد کیسا نفس سرکش جاؤں گا طیبہ کو میں
ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
حشر میں ایک ایک کا مونھ تکتے پھرتے ہیں عدو
مر کے جیتے ہیں جو اُن کے دَر پہ جاتے ہیں حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
