کہنے لگا بھنور کہ تجھے راستہ دیا
شب بھی اتار بیٹھی سرِ ماتمی لباس
کہتے ہیں انکی نعت ہی سب اپنے رنگ میں
طیبہ بلا کے مجھ سے گناہ گار شخص کو
سُنتے ہوۓ وہ نعت مجھے خلد لے گۓ
اس بات پر لحد میں شہِ دیں بھی خوش ہوۓ
یوں مست ہیں کہ اپنی بھی ہم کو خبر نہیں
اک شب سجائی محف صد آہ و اشک و درد
پہلے تو مجھ کو شوقِ حضوری عطا کیا
پر نور کررہے ہیں بہتر چراغ آپ
پڑھ کر درودِ پاک دیا میں نے گل کو آب
عاصی ہو تم اگر تو شفاعت ہے میرے پاس
آقا میرے کریم میرے قاسم عطا
— Unknown
