مَن رَآنِی کا مدعا چہرہ
سرمگیں چشم آیۃ مازاغ
عالمِ خواب میں حقیقت ہے
مصطفیٰ آنکھ ہو خدا صورت
یہی چہرہ نشانِ وجہہُ اللہ
یہ ہے تفسیر احسنِ، تقویم
مرنےوالوں کی آخری خواہش
رہگزار حیات میں واصؔف
— Unknown
مَن رَآنِی کا مدعا چہرہ
سرمگیں چشم آیۃ مازاغ
عالمِ خواب میں حقیقت ہے
مصطفیٰ آنکھ ہو خدا صورت
یہی چہرہ نشانِ وجہہُ اللہ
یہ ہے تفسیر احسنِ، تقویم
مرنےوالوں کی آخری خواہش
رہگزار حیات میں واصؔف
— Unknown
مسجد نبوی توہی بتاکچھ سماں وہ کیسا پیارا ہوگا
دوجگ کےمختارکی باتیں،دین و دانش کی سوغاتیں
بزمِ نبوت میں صدیق بھی فاروق و عثمان و علی بھی
اُن جلووں کےدن بھی تیری یادکا حصہ ہوں گےجن میں
تونےاپنےدروازےپروہ بچےبھی دیکھےہوں گے
قربِ حضور میں اہل مدینہ کیسی راحت پاتےہوں گے
ارضِ مدینہ بانگ بلال سےتیری فضا جب گونجتی ہوگی
بہرشفاعت جب بھی دعاکو حضرت ہاتھ اٹھاتےہوں گے
امتِ مرسل میں ہوں طرب اوراس رشتےپرنازاں ہوں
— Unknown
مرحبا کیا روضہ سرکار ہے
عشق سےآقا کےجوسرشارہے
پیاری پیاری ہے مدینہ کی فضا
چہرہ انور دکھانا خواب میں
ہے مینار مسجد نبوی حسین
المدد پیاری نبی پیارے نبی
ایک پل میں عرش اعظم پرگۓ
اب مناؤ عید میلاد النبی
موت آۓ کاش طیبہ میں کمالؔ
— Unknown
کرم کی نظر تاجدار مدینہ
مرے تجربےکا ہے ایمان اس پر
خبر لے کبھی رہبر راہِ ہستی
تمہارا سہارا ملا مشکلوں میں
ہیں خالدکی جھولی میں صدقےتمہارے
— Unknown
شہد سے میٹھا محمد نام
میم سے ہیں محبوب وہ رب کے
جود ہے اُن کا عام
میم مے توحید پلاۓ
فردوس کا دے پیغام
میم سے ہیں ہردکھ کا مداوا
دور کرے آلام
میم محبت کی لے لایا
یاد ہے صبح و شام
— Unknown
سَرورکہوں کہ مالک ومولا کہوں تجھے
اللہ رہے تیرے جسمِ منور کی تابشیں
مجرم ہوں اپنے عَفو کا ساماں شہا
تیرے تو وصف عَیب تناہی سےہیں بری
کہہ لےگی سب کچھ اُن کےثنا خواں کی خامُشی
لیکن رضاؔ نےختم سخن اس پہ کردیا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
اُٹھا رُخ سے پردہ ذرا فیضِ عالم
تجّلِئ عکس جمالِ مُحمدؐ
تیرا نام نامی علاجِ غمِ دِل
جھکے آپ کے در پہ اقطاب عالم
نگاہیں مری تیرےجلووں کی طالب
گدائی ملی آپؐ کےدر کی جب سے
بہار درِ خُلد سےکم نہیں ہے
ترےسبزگنبد پہ انوارِ رحمت
تری شمع مرقد سےپھیلی جہاں میں
ادھر بھی ہوں لُطف و کرم کی نگاہیں
سوالی ہے نیرؔ ترے آستاں پر
— Syed Shareef Ud Deen Nayyar\
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
گِھرا ہے بلاؤں میں بندہ تمہارا
ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے
مریدوں کو خطرہ نہیں بحر غم سے
تمہیں دکھ سنو اپنے آفت زدوں کا
بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ
جو دکھ بھررہا ہوں جو غم سہہ رہا ہوں
زمانے کے دکھ درد کی رنج و غم کی
نکالا ہے پہلے تو ڈوبے ہواؤں کو
جسے خلق کہتی ہےپیارا خدا کا
کیا غور جب گیارہویں بارہویں میں
پھنسا ہےتباہی میں بیڑا ہمارا
مشائخ جہاں آئیں بہر گدائی
مری مشکلوں کو بھی آسان کیجۓ کہ
وہاں سر جھکاتے ہیں سب اونچےاونچے
مجھےپھرمیں نفس کافرنے ڈالا
کھلا دے جو مرجھائی کلیاں دلوں کی
مجھے اپنی الفت میں ایسا گما دے
بچا لے غلاموں کو مجبوریوں سے
دکھا دے ذرا مہر رخ کی تجلی
لپٹ جائیں دامن سے اس کے ہزاروں
سروں پر جسےکیتے ہیں تاج والے
کہے کس سے جا کر حسن اپنے دل کی
— Hassan Raza Khan Barelvi\
بدہ دست یقیں اے دل بدست شاہ جیلانی
سگِ درگاہِ میراں شو چوں خواہی قرب ربانی
امیرِ دستگیرِ غوث الاعظم قطب ربانی
نشان بے نشاں چونی بیانِ سرِّ مکنونی
نیاز اندر جناب پاک او از قدسیاں باید
— Shah Niaz Ahmed Barelvi\
پکارو شاہ جیلاں کو پکارو
یہ در محبوب سبحانی کا در ہے
یہ ذرے کوچہ بغداد کے ہیں
مریدی لا تخف ان کا ہے فرماں
پکارو ہر گھڑی یا غوث اعظم
تمہاری ریت ہے بیڑے ترانا
تمہیں مشکل نہیں بگڑی بنانا
غوش الاعظم شاہ جیلاں منجدھار میں نیا ہے
میراں میں بھی رحم کے قابل ہوں دکھ درد کا مارا ہوں
دنیا میں بتا دیجیو اور کون ہمارا ہے
عاصیؔ پہ شاہ جیلاں رحمت کی نظر کردو
— Unknown