تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
یہ پیاری ادائیں یہ نیچی نگاہیں
کسی اَور کو بھی یہ دولت ملی ہے
میں دَر دَر پھروں چھوڑ کر کیوں ترا دَر
میں سرکارِ عالی کے قربان جاؤں
مِرے دَبدبہ والے میں تیرے صدقے
تمہاری طرف ہاتھ پھیلے ہیں سب کے
مجھے زندہ کر دے مجھے زندہ کر دے
مسلماں مسلماں ہیں تیرے سبب سے
مِرے آن والے مِرے شان والے
تو بحر حقیقت تو دریائے عرفاں
کوئی جلوہ میرے بھی روزِ سیہ پر
بس اب کچھ عنایت ہوا اب ملا کچھ
وہ دولھا ہیں ساری خدائی براتی
نہ دیکھا کوئی پھول تجھ سا نہ دیکھا
تِرے کوچہ کی خاک ٹھہری اَزَل سے
کوئی جانِ عیسیٰ کو جا کر خبر دے
ابھی سارے بیمار ہوتے ہیں اچھے
سَمِیْعًا خدارا حسنؔ کی بھی سن لے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
