منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں
— Unknown
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں
— Unknown
ہزار پیش کروں تجھ کو میں سلام ہوا
میں خاکِ طیبہ کو آنکھوں میں بھر کے آیا ہوں
کھلاۓ جاتی ہے شاخوں پہ پھول مدحت کے
یہ جب سے گنبدِ خضریٰ کو چھو کے آئی ہے
تیری تو شہرِ مقدس سے پے شناسائی
— Irfan Sadiq\
کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
جگمگا اُٹھی مِری گور کی خاک
مہِ بے داغ کے صَدقے جاؤں
عرش تک پھیلی ہے تابِ عارِض
گلِ طیبہ کی ثنا گاتے ہیں
عاصیو! تھام لو دامن اُن کا
ابر رحمت کے سَلامی رہنا
ارے یہ جلوہ گہِ جاناں ہے
سُنّیو! ان سے مَدَد مانگے جاؤ
شمع یادِ رُخِ جاناں نہ بجھے
مَوت کہتی ہے کہ جلوہ ہے قریب
کوئی اُن تیز رووں سے کہہ دو
دل سُلگتا ہی بھلا ہے اے ضبط
ہم بھی کمھلانے سے غافِل تھے کبھی
نخل سے چھٹ کے یہ کیا حال ہوا
جب گِرے مُنھ سُوئے میخانہ تھا
دیکھ اَو زَخمِ دِل آپے کو سنبھال
مے کہاں اور کہاں میں زاہد
کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
جب سے بنی ہے دنیا، لاکھوں کروڑوں آئے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
آنکھوں سے تو نے اپنی دیکھے کئی جنازے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
یہ عالیشان بنگلے کچھ کام کے نہیں ہیں
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
مخمل پہ سونے والے مٹی پہ سو رہے ہیں
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
مٹی کے پتلے تجھ کو مٹی میں ہے سمانا
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
اے فانی عرفاں! اپنے مولا سے دل لگا لے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
— Unknown
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
دھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی
حسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے
ذَرَّۂ دشتِ مدینے کی ضیا مہر کرے
پیار سے لے لیے آغوش میں سر رحمت نے
لاش اَحباب اسی دَر پر پڑی رہنے دیں
جلوۂ گر ہو جو کبھی چشم تمنائی میں
خاکِ پامال ہماری بھی پڑی ہے سرِ راہ
کیوں نہ وہ ٹوٹے دلوں کے کھنڈر آباد کریں
زینتوں سے ہیں حسینانِ جہاں کی زینت
نامِ آقا ہوا جو لب سے غلاموں کے بلند
عرش پہ کعبہ و فردوس و دلِ مومن میں
ترے محتاج نے پایا ہے وہ شاہانا مزاج
اپنے ذَرَّوں کے سیہ خانوں کو روشن کر دو
پورے سرکار سے چھوٹے بڑے اَرمان ہوں سب
— Hassan Raza Khan Barelvi\
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے تہہِ افلاک
جب قبر میں پرسش کے لیے آئیں نکیرین
جس دم وہ غلاموں کو پکاریں سرِ محشر
ویسے تو کہاں قابلِ بخشش مرے اعمال
ٹھہرے وہ بس اک اشکِ ندامت کے برابر
جو ڈھانپ لے سب اپنی غلاموں کی خطائیں
— Aqeel Abbas Jafri\
آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
از اُفق تا بہ اُفق ایک ہی جلوہ دیکھوں
عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں
میں کہاں ہوں ، یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظریں
میں نے جن آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی شہرِ نبی
بعد رحلت بھی جو سرکار کو محبوب رہا
فقر و فاقہ ہی رہا جس کے مکینوں کا نصیب
جالیاں دیکھوں کے دیوار و در و بامِ حرم
میرے مولا مری آنکھیں مجھے واپس کر دے
جن گلی کوچوں سے گزرے ہیں کبھی میرے حضور
تاکہ آنکھوں کا بھی احسان اٹھانا نہ پڑے
کاش اقبالؔ یوں ہی عمر بسر ہو میری
— Unknown
مرحبا بولو مرحبا، جھوم کر بولو مرحبا
مومنو وقتِ ادب ہے
مرحبا بولو مرحبا
اٹھو آیا تاج والا
مرحبا بولو مرحبا
مرحبا بولو مرحبا
ابرِ رحمت چھا گیا ہے
مرحبا بولو مرحبا
بج رہے ہیں شادیانے
مرحبا بولو مرحبا
آمنہ بی بی کا جایا
مرحبا بولو مرحبا
سرکار کی آمد، مرحبا
بخش دو میری خطائیں
مرحبا بولو مرحبا
اس جمیلِ قادری پر ہو کرم محبوبِ داور
مرحبا بولو مرحبا
سرکار کی آمد، مرحبا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ
خامۂ قدرت کا حُسنِ دست کاری واہ واہ
اشک شب بھر انتظارِ عفوِ اُمّت میں بہیں
اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹُوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
نُور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہ
نیم جلوے کی نہ تاب آئے قمر ساں تو سہی
نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے
مجرموں کو ڈُھونڈتی پِھرتی ہے رَحمت کی نِگاہ
عرض بیگی ہے شفاعت عَفو کی سرکار میں
کیا مَدینہ سے صبا آئی کہ پھولوں میں ہے آج
خود رہے پردے میں اور آئینہ عکسِ خاص کا
اِس طرف رَوضہ کا نور اُس سَمْت منبر کی بہار
صدقے اس اِنعام کے قربان اس اِکرام کے
پارۂ دل بھی نہ نِکلا دِل سے تحفے میں رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
اُڑے تیری طرف بعد فنا خاک
مِرے دل میں بسیں جلوے تمہارے
نہ بھولوں بھول کر بھی یاد تیری
مُرِیْدِیْ لَا تَخَف فرماتے آؤ
گلے تک آ گیا سیلاب غم کا
نشیمن سے اُڑا کر بھی نہ چھوڑا
خمیدہ سر گرفتارِ قضا ہے
اندھیری رات جنگل میں اکیلا
کھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو
مِرے غم کی کہانی آپ سن لیں
رہوں آزاد قید عشق کب تک
کرو گے کب تک اچھا مجھ بُرے کو
غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر
حسنؔ منگتا ہے دیدے بھیک داتا
— Hassan Raza Khan Barelvi\