صدقے میں آپؐ ہی کے بنی کائنات ہے
قبلِ ازل سے خالق و قادر کے باب میں
تائیدِ حق میں بعد ابد ہوں گے آپؐ ہی
وجہِ شرف ہیں آپؐ ہی انسان کے لیے
ذکر و درود، وردِ زباں، حرزِ جاں کیا
رحمت ہیں آپؐ سارے جہانوں کے واسطے
— Ali Akbar Abbas\
صدقے میں آپؐ ہی کے بنی کائنات ہے
قبلِ ازل سے خالق و قادر کے باب میں
تائیدِ حق میں بعد ابد ہوں گے آپؐ ہی
وجہِ شرف ہیں آپؐ ہی انسان کے لیے
ذکر و درود، وردِ زباں، حرزِ جاں کیا
رحمت ہیں آپؐ سارے جہانوں کے واسطے
— Ali Akbar Abbas\
کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
جنّت ہے ان کے جلوہ سے جویائے رنگ و بُو
اُن کے قدم سے سلعۂ غالی ہوئی جِناں
سُنتا ہوں عشقِ شاہ میں دِل ہو گا خُوں فشاں
بُلبل حرم کو چل غمِ فَانی سے فائدہ
غمگیں ہے شوقِ غازَۂ خاکِ مَدینہ میں
بلبل یہ کیا کہا میں کہاں فَصْلِ گل کہاں
بلبل! گِھرا ہے ابر ولا مژدَہ ہو کہ اب
یاربّ ہرا بھرا رہے داغِ جگر کا باغ
رنگِ مژہ سے کر کے خَجِل یادِ شاہ میں
میں یادِ شہ میں رووں عنادِل کریں ہجوم
ہیں عکسِ چہرہ سے لبِ گلگوں میں سُرخیاں
نعتِ حضور میں مُتَرَنّم ہے عندلیب
بلبل گلِ مدینہ ہمیشہ بہار ہے
شیخین اِدھر نثار، غنی و علی اُدھر
چاہے خدا تو پائیں گے عشقِ نبی میں خلد
کر اُس کی یاد جس سے ملے چین عندلیب
دیکھا تھا خوابِ خارِ حرم عندلیب نے
اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پُھول ہیں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
میں بھی روضے رکھوں گا، یا اللہ توفیق دے
میں بھی مسلمان ہوں، چھوٹا سا ہوں لیکن
روضے اگر مومن رکھے ثواب کی نیت سے
مٹے گناہ اس کے پچھلے سارے
میں بھی روضے رکھوں گا، یا اللہ توفیق دے
ذکر و تلاوت سے خدایا قرب تیرا پاؤں
نیکیوں کا موسم ہے یہ کیوں ن حصہ ڈالوں
مغفرت مانگو روخانی رب سے تم دن رات
میرے بھی گناہ بہت ہیں دے مجھ کو نجات
میں بھی روضے رکھوں گا، یا اللہ توفیق دے
— Unknown
پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت
جلوہ ہے حق کا جلوہ صبحِ شبِ وِلادت
فصل بہار آئی شکل نگار آئی
پھولوں سے باغ مہکے شاخوں پہ مرغ چہکے
پژمردہ حسرتوں کے سب کھیت لہلہائے
گل ہے چراغِ صرصر گل سے چمن معطر
قطرہ میں لاکھ دریا گل میں ہزار گلشن
جنت کے ہر مکاں کی آئینہ بندیاں ہیں
دل جگمگا رہے ہیں قسمت چمک اٹھی ہے
چکٹے ہوئے دِلوں کے مدت کے میل چھوٹے
بلبل کا آشیانہ چھایا گیا گلوں سے
اَرض و سما سے منگتا دوڑے ہیں بھیک لینے
اَنوار کی ضیائیں پھیلی ہیں شام ہی سے
مکہ میں شام کے گھر روشن ہیں ہر نگہ پر
شوکت کا دَبدبہ ہے ہیبت کا زلزلہ ہے
خطبہ ہوا زمیں پر سکہ پڑا فلک پر
آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
رُوحُ الامیں نے گاڑا کعبہ کی چھت پہ جھنڈا
دونوں جہاں کی شاہی ناکتخدا دُولہن تھی
پڑھتے ہیں عرش والے سنتے ہیں فرش والے
چاندی ہے مفلسوں کی باندی ہے خوش نصیبی
عالم کے دفتروں میں ترمیم ہو رہی ہے
ظلمت کے سب رِجسٹر حرفِ غَلَط ہوئے ہیں
ملک اَزَل کا سروَر سب سروَروں کا اَفسر
سوکھا پڑا ہے ساوا دریا ہوا سماوا
نوابیاں سدھاریں جاری ہیں شاہی آئیں
دن پھر گئے ہمارے سوتے نصیب جاگے
قربان اے دوشنبہ تجھ پر ہزار جمعے
پیارے رَبیع الاوّل تیری جھلک کے صدقے
وہ مہر مہر فرما وہ ماہ عالم آراء
نوشہ بناؤ ان کو دولہا بناؤ ان کو
شادی رَچی ہوئی ہے بجتے ہیں شادیانے
محروم رہ نہ جائیں دن رات برکتوں سے
عرشِ عظیم جھومے کعبہ زمین چومے
ُہشیار ہوں بھکاری نزدیک ہے سواری
بندوں کو عیش و شادی اَعدا کو نامرادی
تارے ڈھلک کر آئے کاسے کٹورے لائے
آمد کا شور سن کر ِگھر آئے ہیں بھکاری
ہر جان منتظر ہے ہر دیدہ رہ نگر ہے
جبریل سر جھکائے قدسی پرے جمائے
کس داب کس اَدَب سے کس جوش کس طرب سے
ہاں دِین والو اُٹھو تعظیم والو اُوٹھو
اُٹھو حضور آئے شاہِ غیور آئے
اُٹھومَلک اُٹھے ہیں عرش و فلک اُٹھے ہیں
آؤ فقیرو آؤ مونھ مانگی آس پاؤ
سوکھی زبانوں آؤ اے جلتی جانوں آؤ
مرجھائی کلیوں آؤ ُکمھلائے پھولوں آؤ
تیری چمک دمک سے عالم چمک رہا ہے
تاریک رات غم کی لائی بلا ستم کی
لایا ہے شیر تیرا نورِ خدا کا جلوہ
بانٹا ہے دو جہاں میں تو نے ضیا کا باڑا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی
لاج رکھ لی طمعِ عفو کے سودائی کی
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضِر
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
پانچ سو سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج
تنگ ٹھہری ہے رضاؔ جس کے لئے وُسعتِ عرش
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی
گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی
شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو
کرم والوں نے دَر کھولا تو رحمت نے سماں باندھا
علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارے
زمینِ کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا
یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونکدیں اپنے فدائی کو
یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے
یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اِک گھر منور ہو
دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زَدہ ہو کر
جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں
اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں
ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اَشکِ یتیماں سے
ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے
اُدھر اَفلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے
سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے
ہوائیں گلشن فردَوس سے بس بس کر آتی ہیں
دِل پُر سوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے
اُدھر چلمن اٹھی حسن اَزَل کے پاک جلوؤں سے
زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے
گھٹائیں مصطفیٰ کے چاند پر گھر گھر کر آتی ہیں
یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُسکے خون کے پیاسے
اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وَار چلتے ہیں
مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا
کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دِلیری نے
تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے
نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے
مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا
شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر
یہ وقت زخم نکلا خوں اُچھل کر جسم اَطہر سے
سر بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا
حسنؔ سنی ہے پھر اِفراط و تفریط اس سے کیونکر ہو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
شکر خدا کرو، ماہ رحمان آ گیا
اللہ تیرا ہے احسان
علم مشروط ہے عمل سے
علم و ادب سکھلائیں گے
اللہ تیرا ہے احسان
دین اسلام محبت کا پیام
کیسی ہوائے عشق چلی؟
اللہ تیرا ہے احسان
میری خاطر خدا تو نے کیا کیا کیا
میں نے ماں باپ کا حق ادا نہ کیا
نا نمازیں پڑھیں، نا ہی روزہ رکھا
میں پشیمان ہوں، رحم کر دے خدا
ہے یہ بخشش کا سامان
— Unknown
پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے
ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے
ماہ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرادیۓ
ان پر درود جن کو ہجر کریں سلام
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السلام
خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام
بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنت کی جوانی
یہ پیاری پیاری کیاری تیرے خانہ باغ کی
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
جن جن مرادوں کے لۓ احباب نے کہا
بھینی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
ڈالیاں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
ہم جانیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
کالک جبیں کی سجدہ در سے چھڑاؤگے
ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا رو جاگ
گھڑیاں گنی ہیں برسوں یہ شب گھڑی پھری
اللہ اکبر اپنے قدم اور یہ خاک پاک
محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
چھاۓ ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود
اے واۓ بیکسی تمنا کہ اب امید
کیوں تاجدارو خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
اتنا عجب بلندی جنت پہ کس لۓ
اف بےحیائیاں کہ یہ منہ اور تیرے حضور
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
مانگیں گے مانگے جائیں گے منی مانگی پائیں گے
جنت نہ دیں نہ دیں تری رویت ہو خیر سے
سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دیے ہو
— Unknown
میرے آقا مدینے میں مجھےبھی اب بلا لیجۓ
مہکتی ہیں وہ راہیں جن سے آقا آپ ہیں گزرے
لڑی سانسوں کی یہ آقا نا جانے کب بکھر جاۓ
دکھوں نے گھیر رکھا ہے غموں کی دھوپ ہے سرپر
— Unknown
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو
عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گِراغش آگیا
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!
تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار
شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا
خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا تو تو ہے عَبدِ مصطفٰی
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\