پھر مجھے آقا مدینے میں بُلایا شکریہ
جس جگہ آٹھوں پَہَر انوار کی ہیں بارِشیں
روضۂ انور کے زائر کے شہا تم ہو شفیع
پھر طوافِ خانۂ کعبہ کا بخشا ہے شَرَف
مجھ سے عاصی کو شَرَف حج کا عطا فرمادیا
یاالٰہی! اپنے پیارے کی وِلادَت گاہ کا
بھیک لینے کیلئے یارب حبیبِ پاک کا
پھر مدینے کی حَسین و خوبصورت وادِیوں
مسجِد نبوی کے محراب اور مِنبر کا شہا!
منہ لگاتا تھا کہاں دنیا میں کوئی بھی مجھے
آہ! تم رویا کئے اُمّت کے غم میں یانبی
خود رہے بُھوکے شِکم پر اپنے پتّھر باندھے اور
مجھ ذلیل و خوار دنیادار کی اَوقات کیا!
یارسولَ اللہ !لوگوں نے مجھے ٹھکرادیا
اِس قَدَر لُطف و عِنایت اپنے نافرمان پر
سُنّتوں کو عام کرنے کا مجھے جذبہ دیا
شکریہ کیونکر شہا تیرے کرم کا ہو ادا
میری عزّت اہلِ سنّت کے دلوں میں ڈال دی
دل سے جس نے بھی اَغِثنِی یارسولَ اللہ!کہا
خاتِمہ بِالخیر ہو میرا مدینے میں اگر
دَفن کرکے جب مِرے اَحباب آقا چلدئے
پیاس ابھی بڑھنے بھی پائی تھی نہ میری حشر میں
عیب محشر میں کُھلاہی چاہتے تھے میں نثار
سُوئے دوزخ جب ملائک مجھ کو لیکر چل دیے
شکریہ کیونکر ادا ہو آپ کا یامصطفٰے
گرچِہ شیطاں ہر گھڑی ایمان کی ہے گھات میں
دولتِ ایماں عطا کی اپنے دامن میں لیا
دے دیا عطارؔ کو مرشِد ضِیائُالدین سا
— Unknown
