جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
تھک کے بیٹھے تو درِ دِل پہ تَمَنَّائی دوست
عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجا
مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتا
مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمر جاوید
ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی
کعبہ و عرش میں کہرام ہے ناکامی کا
حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
شوق روکے نہ رُکے پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھے
شرم سے جھکتی ہے محراب کہ ساجد ہیں حضور
تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
طور پر کوئی، کوئی چرخ پہ یہ عرش سے پار
اَنْتَ فِیْہِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں
رَنجِ اَعدا کا رضاؔ چارہ ہی کیا ہے جب انھیں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
