پاؤگے بخششیں قافلے میں چلو
زَخم بگڑے بھریں، پھوڑے پُھنسی مِٹیں
کالے یَرقان میں، کیوں پریشان ہیں
ٹیڑھی ہوں ہڈّیاں، ہوں گی سیدھی میاں
دَرد گمبِھیر ہو، کوئی دِلگیر ہو
گرچِہ بیماریاں، ہوں کہیں پتھریاں
تنگدستی ہو گھر میں یا ناچاقِیاں
جو کہ مَفقود ہو وہ بھی موجود ہو
دُور ہوں گے اَلَم ہوگا رب کا کرم
دردِسر ہو اگر دُکھ رہی ہو کمر
باپ بیمار ہو، سخت بیزار ہو
ماں جو بیمار ہو، یا وہ ناچار ہو
وا ہو بابِ کرم، دُور ہوں رنج و غم
زلزلہ آئے گر، آکے چھا جائے گر
زلزلہ عام تھا ہر سُو کُہرام تھا
زَلزلے سے اَماں، دے گا ربِّ جہاں
ہوں بپا زلزلے، گرچِہ آندھی چلے
ہے شِفا ہی شِفا، مرحبا! مرحبا!
پیٹ میں دَرد ہو رنگ بھی زَرد ہو
ہے طلب دید کی، دید کی عید کی
دل میں گر دَرد ہو ڈر سے رُخ زَرد ہو
آفتوں سے نہ ڈر، رکھ کرم پر نظر
آپ کو چارہ گَر نے گو مایوس کر
گھر میں اَن بَن نہ ہو، کوئی الجھن نہ ہو
بیوی بچّے سبھی، خوب پائیں خوشی
زوجہ بیمار ہے، بیٹا ’’بے کار‘‘ ہے
نوکَری چاہئے، آئیے آئیے
غم سے روتے ہوئے،جان کھوتے ہوئے
قلب بھی شاد ہو، گھر بھی آباد ہو
قرض اُتر جائے گا، خوب رِزق آئیگا
گرہو عِرقُ النَّسا عارِضہ کوئی سا
گھر میں ’’ اُمّید‘‘ ہو، اس کی تمہید ہو
زَچّہ کی خیر ہو ، بچّہ بِالخیر ہو
دُور بیماریاں اور پریشانیاں
آکے تم باادب، دیکھ لو فضلِ رب
کھوٹی قسمت کھری،گود ہوگی ہری
سن لے عطاّرؔ کی، اپنے غمخوار کی
— Unknown