بنا ہے دامنِ ہر حرف' کہکشانِ حمد
تمام خلق نے مل کر جو آج تک کی ہے
ہیں خاک بستہ مرے لفظ' گنگ اور حیران
جھکاۓ رکھیۓ گا خواب میں بھی' شکر میں سر
ندامتوں کے اسیرِ خیال ! تُو ہی بتا
خجالتوں سے بھری زندگی ! اشارہ کر
شہادت اس کی ربوبیت اور عظمت کی
ہزار عمرِ خضر بھی اداۓ شکر کو کم
زمیں سے آگے نہ پہنچیں لغات ہاۓ بشر
ازل سے محو ہیں تسبیح میں سبھی اُس کی
درود اس پہ ہمہ شکر ذات ہے جس کی
وہ جس سے بڑھ کے کسی نے نہ رب کی' کی تعریف
نظر سے دور اندھیرے جمے خلاؤں میں
شمار و حد قیاس وگمان سے باہر
ریاض سوچ یہ' غربالِ لفظ کے اندر
اسی ردیف و قوافی سے بحر دیگر میں
— Riaz Majeed\
