اے اِمامُ الہدیٰ محب رسول
نائب مصطفٰے محب رسول
خادِمِ مرتضیٰ محب رسول
عین حق کا بنا محب رسول
زُبدۃُ الاتقیا محب رسول
غربا پر فدا محب رسول
اے سَلَف اِقتدا محب رسول
سقم دل کی شفا محب رسول
شرقِ شانِ وَفا محب رسول
اے کرم کی گھٹا محب رسول
کیوں نہ ہو چاند سا محب رسول
حرمین و حمی میں بس کے گیا
تو کلامِ خدا کا حافِظ ہے
عبد قادِر نہ کیوں ہو نام کہ ہے
مشعل راہِ دین و سنت ہے
اچھے پیارے کی خانہ زادی ہے
شرم والے غنی کا بیٹا ہے
آج قائم ہے دَم قدم سے ترے
ٹھیک معیار سنیّت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدی سے پھرا
مصطفی کا ہوا خدا کا ہوا
مُذنب بد مذاق را زہر ست
عاصی رُوسیاہ دشمن تست
خارزَاروں کے واسطے ہے سموم
ہدم بنیان نجد کا طرہ
ہزم اَحزابِ ندوہ کا سہرا
رَفض و تفضیل و نجدیت کا گلا
تو نے اَبنائے بد مذاقی کو
ماتمی ہیں زَنانِ نجد کہ ہائے
جلتے ہیں ندویہ کہ صدر کی قدر
سر مُنڈاتے ہی پڑگئے اَولے
بخت کھل جاتا تخت مل جاتا
مَکَرُوْا مَکْرَ ھُمْ و عند اللہ
کوہ اَفگن تھا ان کا مکر مگر
پہلے بھی مَکْرْدَارِ ندوَہ کو
بعد تیرہ صدی کے پھر اُچھلا
اُن کی جو رُوئداد تھی کر دی
زَر کے مفتی بنا کریں مخطی
ناظمِ فتنہ لاکھ ہوں تو ہے
جھوٹے حقانی بنتے ہیں گمراہ
کچھ مداہن حمیر میر بنے
یوں نہ سمجھیں تو سر اڑایا آپ
ندوِی جھنجھلاتے ہیں کہ وہی تو ہیں
غافل اس سے کہ ایک سُنی ہے
گلۂ بز کو ایک شیر بہت
ہم بجامع رَمَہ رَمَد اَز شیر
میرے ستر70 سوال کا قرضہ
نہ ادا ہو اگرچہ محشر تک
بیسوں اعلانوں پر بھی ہٹ نہ سکا
شرمِ نو خاستن رہی حائل
حال مُسْتَنْفِرَہ کا قَسْوَرہ سے
میرے خنجر کی تاب لا نہ سکے
گالیاں دیں جواب کے بدلے
شعلہ خویوں کو چھیڑ کر سننا
تلخ زیْبَد لب شَکَرِخا رَا
ہاں نہ ان دو کا تیسرا دیکھا
تیسرا کون عونِ حق جس کا
تیسرا کون بدرِ حق جس کا
تیسرا کون مہرِ حق جس کا
سایہ ان دو پہ کیسے دو کا ہے
ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِی الْغَار
بلکہ دو اَحولی سے کہتے ہیں
نہ تو مجھ سے جدا نہ میں تجھ سے
غلطی کی ترا مرا کیسا
یہ بھی تیرے کام سے ہے ورنہ
میں کہاں اور کہاں تَعَالَی ا للّٰہ
تیری نعمت کا شکر کیا کیجئے
اور تو اور شیخ تجھ سے ملا
شیخ بھی وہ کہ جس کے دَر کی خاک
شیخ بھی وہ کہ ایک جھلک میں کرے
شیخ بھی وہ کہ جس کی ایک نگاہ
شیخ بھی وہ کہ جس کے مجرائی
شیخ بھی وہ کہ فتنوں کی ہے قضا
شیخ بھی وہ کہ جس کے نام کا وِرد
شیخ بھی وہ جس کے عشق کی آگ
شیخ بھی وہ کہ حق کے پھول کھلائے
شیخ بھی وہ کہ جس کا آبِ وُضو
شیخ بھی وہ کہ خاکِ پا سے کرے
شیخ بھی کون حضرتِ آلِ رسول
اس کے در تک رسائی تجھ سے ملی
مجھ پہ واجب ہے تیرا شکر نعم
جگمگاتے چراغ سنت کے
نہ کبھی بادِ حادثہ پاس آئے
دائما تیری نسل روشن میں
رہے تا روزِ نُورُھُمْ یَسْعٰی
مقتدر تیرے نوبروں کو کرے
تیرے سایہ میں لہلائیں کھلیں
مورثِ مجد و فضل آبا ہو
خار دَر چشم و خوار دَر چشماں
تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
میرا شافع حضورِ غوث میں ہو
مُدَّعی سے مجھے بچا لیں غوث
میرے سب کام ان سے بنوا دے
مجھے کر دے رضائے اَحْمد وہ
آہ صد آہ میں ہوں بِئْسَ الْعَبْد
بِئْسَ کو نِعْمَ سے بدلوا دے
کون مولا وہ سید الافراد
میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے
ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں
تینوں بھائی نہ کوئی غم دیکھیں
میرے بیٹوں بھتیجوں کو بھی ہو
دین و دنیا کی عزتیں پائیں
خاتمہ سب کا دین حق پہ کرے
خلد میں زیر ظل غوثِ کریم
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\