ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم
ہو جب کبھی تیرا گزر بادِ صبا سوئے حرم
اِنْ نِّلْتِ یَا رِیْحَ الصَّبَا یَوْمًا اِلٰیٓ اَرْضِ الْحَرَم
میں دُوں تجھے ان کا پتہ گر نہ تو پہچانے صبا
رخسار سورج کی طرح ہے چہرہ ان کا چاند سا
مَنْ وَّجْھُہٗ شَمْسُ الضُّحٰی مَنْ خَدُّہٗ بَدْرُالدُّجٰی
حق نے انہیں رحمت کہا اور شافعِ عصیاں کیا
وہ مَہبِطِ قران ہیں ناسخ ہے جو اَدیان کا
قُرْاٰ نُہٗ بُرْہَانُنَا نَسْخًا لِّاَدْیَانٍ مَّضَتْ
یوں تو خلیلِ کبریا اور اَنبیائِ باصفا
لیکن ہیں ان سب سے سوا دُرِّیتیمِ آمنہ
یَا مُصْطَفٰی یَا مُجْتَبٰی اِرْحَمْ عَلٰی عِصْیَانِنَا
اے ماہِ خوبانِ جہاں اے اِفتخارِ مرسلیں
فرقت کے یہ رَنج و عنا اب ہوگئے حد سے سوا
وہ لوگ خوش تقدیر ہیں اور بخت ہے ان کا رَسا
سب اَولین و آخریں تارے ہیں تم مہر مبیں
اَکْبَادُنَا مَجْرُوْحَۃٌ مِّنْ سَیْفِ ہِجْرِ الْمُصْطَفٰی
اے دو جہاں پر رحمِ حق تم ہو شفیع المجرمیں
اس بیکسی کے وقت میں جب کوئی بھی اپنا نہیں
یَا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ اَنْتَ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْں
اس سالکِؔ بدکار کا گو حشر میں کوئی نہیں
مجرم ہوں میں غفار رب اور تم شَفِیْعُ الْمُذْ نِبِیْں
یَا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْں اَدْ رِکْ لِزَیْنِ الْعَابِدِیْں
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\