ہے کونین کے سر پہ رحمت نبی کی
نہ کیونکر رہے ہر جگہ سنیوں پر
ہمیں جائیں گے خلد میں سب سے پہلے
بنائے گئے ہم شفاعت کی خاطر
وہی لطف پائیں گے روزِ قیامت
قیامت کا دن صرف اِس واسطے ہے
یہ رِضواں کو حکمِ خدا ہے کہ پہلے
فقط ایک عالم نہیں اُن پہ شیدا
وہ فرماتے ہیں مَنْ رَّاٰنِیْ رَاَ الْحَقَّ
چلے جائیں گے خلد میں زہد والے
زمانہ ہے شاہِ عرب کا بھکاری
نہ کیوں سبز گنبد پہ عالم ہو قرباں
عجب جالیاں ہیں سنہری سنہری
نہ لگتا تھا سدرہ پہ جبریل کا دِل
فرشتوں میں اَفضل کیا یوں خدا نے
بلایا خدا نے اُنہیں لامکاں میں
نہ ہوگا کوئی بعد اُن کے پیمبر
صحابہ ہیں سب مثلِ اَنجم دَرخشاں
ابوبکر کی شان و عزت تو دیکھو
دوشنبہ کو اَفضل کیا یوں خدا نے
بحکمِ اَحادِیث اِیمان یہ ہے
ہے تصدیقِ وَحدانیت جزوِ اِیماں
کتابِ الٰہی یہ فرما رہی ہے
نبی کے محب ہو تو محبوبِ رَب ہو
کسی کی کسی کو نہیں ہے نہ ہوگی
وہ آئی وہ آئی وہ آئی وہ آئی
نہ گھبراؤ بندو نہ گھبراؤ بندو
رَاٰنِیْ رَاَ الْحَقّ یہ فرما رہا ہے
دَمَک کر چمک کر یہ کہتی ہے صورت
مِلا جس کو جو کچھ یہیں سے مِلا ہے
نہیں ہوتی کم خرچ کرنے سے کچھ بھی
خدا نے دیا ہے مگر ان کے ہاتھوں
عذابِ خدا منکروں پر اُترتا
عوض ظلم کے دشمنوں کو دُعا دی
اِشارے سے اِک چاند کے دو بنائے
مہ و مہر اَرض و سما عرش و کرسی
گرے آکے اَشجار قدموں پہ ان کے
دَمِ نزع مرقد میں روزِ قیامت
نہ چھوڑا کسی کو بھی دستِ عطا نے
عدو کے جلانے کو اے سنیو تم
جمیلؔ اپنے اِیماں کا اِیمان یہ ہے
— Jamil Ur Rehman Qadri\