ہر شے میں ہے نورِ رُخِ تابانِ محمد
اللہ نے محبوب کو بے مثل بنایا
مخلوق کو معلوم ہو کیا اُن کی حقیقت
آسکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وہ
سینہ ہے وہی جس میں نبی کی ہو محبت
وہ دِل ہی نہیں جو نہ جھکے سوئے مَدینہ
اَعدا کی شقاوَت کہ ہوئے آپ کے منکر
محبوبِ خدا حاکم مخلوقِ الٰہی
تفسیر نے لَوْلَاکَ لَمَا کی یہ پکارا
رہتا ہے فلک جس کے طوافوں میں شب و روز
عشاق سمجھتے ہیں اسے گلشن جنت
چلتا ہے جو زائر تو یہ کہتے ہیں فرشتے
شیروں پہ شرف رکھتے ہیں دَربار کے کتے
لاشہ مرا طیبہ کے بیاباں میں پڑا ہو
کیا پوچھتے ہو مجھ سے نکیرین لحد میں
ٹکراؤں گا سر تختۂ مرقد سے لحد میں
کیوں ان کے غلاموں کو ہو ڈر حشر و لحد کا
قیدی کو چھڑا دیتا ہے ایک اُن کا اشارہ
یارب یہ تمنا ہے کہ تاحشر کہیں پر
پہلے ہی خدا حکم قیامت میں یہ دے گا
ہم جائیں گے فردوس میں رضواں سے یہ کہہ کر
توصیف و ثنا لکھے جمیلؔ رضوی کیا
— Jamil Ur Rehman Qadri\