ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
عرش و کرسی ہے تمہیں سے روشن
دیکھیں طیبہ کو تو رضواں کہہ دیں
خلد و اَفلاک مزین ہیں سبھی
مسکرا دیجیے یاشاہ کہ ہو
حور و غلماں مَلک و جن و بشر
تم نہیں تھے تو نہیں تھا کچھ بھی
میں ہوں محبوبِ خدا کا مَدَّاح
ایک دن چل کے جمیلؔ رَضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
