مدینہ میں بلا اے رہنے والے سبز گنبد کے
سنہری جالیوں کے سامنے بستر لگے اپنا
جسے عشاق کی جنت کہا کرتے ہیں اِہلِ حق
گرے جاتے ہیں تیرے نام لیوا بارِ عصیاں سے
کنارہ دُور ہے کشتی شکستہ اور بھنور حائل
دوعالم کی مرادوں کے لیے کافی و وافی ہے
اگر مِل جائے چھینٹا قطرئہ رحمت سے عالم کو
کھلیں جس سے یہ مرجھائی ہوئی کلیاں مرے دل کی
رضائے حق کے طالب دو جہاں لیکن ترا مولیٰ
گنہگاروں کی جانب سے خطاؤں پر خطائیں ہیں
دُرِ دَنداں کا صدقہ قبرِ تِیرہ کو بنا روشن
مہ بے داغ تیرے نور سے روشن زمانہ ہے
تو ہی ظاہر تو ہی باطن تو ہی ہے اِبتدا پیارے
مَدینے میں عرب میں عرش پر دنیا و عقبیٰ میں
فرشتوں کا جھکا سر سوئے آدم کس کے باعث سے
گھٹا چاروں طرف سے کفر کی اِسلام پر چھائی
شہنشاہِ مَدینہ تو ہے حاکم سارے عالم کا
سلاطینِ جہاں دیتے ہیں آکر بھیک لینے کو
ہزاروں کو حیاتِ جاوِداں بخشی تو میرا بھی
کھلادیتی ہے مرجھائی ہوئی کلیاں غلاموں کی
تیری خوشبو ہے جب رہبر تو زائر کس لیے پوچھیں
کہیں بازارِ محشر میں نہ میرے عیب ُکھل جائیں
وہ روضہ جس پہ ہیں جبریل بھی سو جان سے قرباں
جنابِ نوح نے کی ناخدائی ایک کشتی کی
دِکھائے آفتابِ حشر جب تیزی غلاموں کو
کرم والے تیری چشمِ عنایت کے اِشارے میں
خدا ہے تیرا واصف پھر جمیلؔ قادری کیونکر
— Jamil Ur Rehman Qadri\
