کروں کیا حالِ دل اِظہار یاغوث
نکالو بحرِ غم سے میری کشتی
سوا تیرے کہوں کس سے غم اپنا
مَدد کا وقت ہے اِمداد کیجئے
دلِ تاریک پر فرما دے صیقل
عطا کر صحت کامل اسے بھی
بلا بغداد میں لِلّٰہِ آقا
اِشارے سے تری رحمت کے بن جائے
مری آنکھوں کو میرے دل کے اندر
نہ گھبراؤں شب تارِ لحد سے
کھلے جب خوابِ مرقد سے مری آنکھ
تمہارے رُوئے روشن کو کہوں کیا
رَہِ موصل ہوئی اِک آن میں طے
مَدد فرمائیے یاغوثِ اعظم
مَدد کا وقت ہے سرکار آؤ
نکالا سیکڑوں ڈوبے ہوؤں کو
بڑھا کر ہاتھ ِاک ٹکڑا اُٹھا دو
اَغِثْنِیْ یَاحَبِیْبِی غوثُ الاعظم
کہاں تک میں پھروں بے کار شاہا
پڑا سوتا ہے میرا بختِ ُخفتہ
مئے عرفاں کا اک ساغر پلا کر
خودی ایسی مٹا دل سے کہ مل جائیں
مجھے ایسی عطا کر یاد اپنی
فنا کر یوں کہ میں سوتے میں دیکھوں
تمنا بلبل شیدا کی یہ ہے
مجھے دنیا میں جنت ہو جو مل جائے
کہاں جا کر کرے آنکھوں کو روشن
ہوں میں بھی قادری یاعبدقادر
رہے سرسبز میرا غنچۂ دِل
پڑھیں تسبیح تیرے نام کی ہم
رہوں ہر وقت سر گرمِ اِطاعت
تیرے اک قطرۂ رحمت سے دُھل جائے
پکڑنا ہاتھ میرا دستگیرا
کرو سو مرتبہ اُس کی مدد تم
کہے جاؤ مریدی لَا تَخَفْ تم
زہے قسمت قیامت تک رہے گا
تمامی اَولیا کے تا قیامت
کریں گے روزِ محشر ہم پہ سایہ
سفارش کیجیے محشر میں میری
مسلماں کیجیے ایسا خدارا
اَطبا کرسکیں جس کا نہ چارہ
مریضوں کے لیے دارُالشفا ہے
ہیں ملتی نامرادوں کو مرادیں
سلاطین زمانہ کیوں نہ مانگیں
اَغِثْنِیْ کہہ کے جو مانگا وہ پایا
رسول اللہ کا تو لاڈلا ہے
قدم تیرا ہے دَوشِ اَولیا پر
نبی کے معجزوں کا تو ہے مَظہَر
رَسُوْلُ اللہ نے سینے میں تیرے
علومِ مصطفیٰ و مرتضیٰ کے
لقب ہے مَجمع البحرین تیرا
عراق اَجمیر و مارہرہ بریلی
دلِ مغموم سے میری بصد آہ
ہے میری تاک میں شیطانِ مردود
تمہارے دشمنوں کے کاٹنے کو
خدا کا خاص بندہ بن گیا وہ
خدا بھی ہوگیا ناراض اس سے
بلاشک ہوگیا مقہورِ ایزَد
ہوئی ذلت اسے دونوں جہاں میں
دوبارہ دِین کو اب زندہ کیجئے
رہے منگتا ہمیشہ شاد آباد
جمیلؔ قادری کی لاج رکھنا
— Jamil Ur Rehman Qadri\