کاش کے نہ دنیا میں پیدا مَیں ہوا ہوتا
آہ! سَلْبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
میں نہ پھنس گیا ہوتا آکے صورتِ انساں
اُونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قُرباں میں
کاش! میں مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا
تار بن گیا ہوتا مُرشِدی کے کُرتے کا
دو جہاں کی فِکروں سے یوں نَجات مل جاتی
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طَیبہ کی
پھول بن گیا ہوتا گلشنِ مدینہ کا
میں بجائے اِنساں کے کوئی پودا ہوتا یا
گلشنِ مدینہ کا کاش! ہوتا میں سبزہ
مَرغ زارِ طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ
کا ش ! خَر یاخَچَّر یا گھوڑا بن کر آتا اور
جاں کَنی کی تکلیفیں ذَبح سے ہیں بڑھ کر کاش!
آہ! کثرتِ عِصیاں ہائے! خوف دوزخ کا
شور اُٹھا یہ محشر میں خُلد میں گیا عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
