Tumhare Dar Pe Jo Main Baryab (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہوجاؤں

جو پاؤں بوسۂ پائے حضور کیا کہنا

مری حقیقت فانی بھی کچھ حقیقت ہے

جہاں کے قوس و قزح سے فریب کھائے کیوں

جہاں کی بگڑی اسی آستاں پہ بنتی ہے

تمہارا نام لیا ہے تلاطم غم میں

یہ میری دوری بدل جائے قرب سے اخترؔ

— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\

Jo Harf o Hunar Sare Zamano Ko Miley (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

جو حرف و ہنر سارے زمانوں کو ملے ہیں، سب تیرے صلے ہیں

قرآں کا چلن مرسلِ یکتا سے چلا ہے جو تجھ کو ملا ہے

تُو سیّد وجید ہے، تو مامون و امیں ہے، مصباح جبیں ہے

تُو کامل و عادل ہے، تو فاتح ہے قوی ہے، نبیوں کا نبی ہے

باطل کے مقابل ہمیں اول پہ ہے ایماں، آخر پہ ہے بعیت

رزاق نے جو کچھ بھی دیا، اس پہ ہوں قانع، پیچھے ہوں میں تیرے

ایجاب دعا تیرے وسیلے سے ہوئی ہے، تو حق ہے، ولی ہے

— Absar Abdul Ali\

Gham Ke Badal Chatein (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

غم کے بادَل چھٹیں قافلے میں چلو

مال چوری ہوا، یا کہیں گُم گیا

مانگو آ کر دُعا، پاؤ گے مُدَّعا

اچّھی صُحبت ملے، خوب برکت ملے

لُوٹ لیں رحمتیں، خوب لیں برکتیں

کُفر کی کالکیں، دُور ہوں ظلمتیں

رب کے در پر جُھکیں، التجائیں کریں

ہے نبی کی نظر، قافِلے والوں پر

سادگی چاہئے، عاجزی چاہئے

عاشِقانِ رسول، آئے سنّت کے پھول

دیتے ہیں فیض عام، اَولیائے کرام

اولیا کا کرم، تم پہ ہو لاجَرَم

خواب میں ڈر لگے، بوجھ دل پر لگے

غیبی امداد ہو، گھر بھی آباد ہو

تنگدستی مٹے، دور آفت ہٹے

بے عمل باعمل بن گئے خاص کر

خوب ہوگا ثواب اور ٹلے گا عذاب

بے شک اعمالِ بد اور اَفعالِ بد

کر سفر آئیں گے، تو سُدھر جائیں گے

دل پہ گر زَنگ ہو، سارا گھر تنگ ہو

ایسا فیضان ہو، حِفظ قراٰن ہو

عاشقِ قافِلہ بن کے گھر لو بنا

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\

Dil Kehta Hai Har Waqt (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

دِل کہتا ہے ہر وقت صفت اُن کی لکھا کر

اس محفل میلاد میں اے بندۂ سرکار

خالی کبھی پھیرا ہی نہیں اپنے گدا کو

خود اپنے بھکاری کی بھرا کرتے ہیں جھولی

اَعدا سے جفا پر ہو جفا اور یہ دعا دیں

کفارِ بداَطوار سے پڑھواتے ہیں کلمہ

اے اَبر کرم بارشِ رحمت تری ہوجائے

کیا دُور ہے سرکار مَدینہ کے کرم سے

گر ہند میں مرتا ہے کوئی عاشق صادق

بہکاتا ہے یوں نفس کہ گھر چھوڑ نہ اپنا

اے بادِ صبا اِتنا کرم بہرِ خدا کر

جو خلد نہ چاہیں گے مَدینے کے عوض میں

ہوگا نہ اثر ہم پہ کہ ہم عبد نبی ہیں

کیا مہر قیامت ہمیں دِکھلائے گا تیزی

مجرم سہی بدکار سہی پر ہے یقیں یہ

ہے نازوں کی پالی ہوئی یہ اُمتِ عاصی

تو حشر میں اللہ نبی سے یہ کہے گا

ہے کون وہ دولت جو نہ دی اُن کو خدا نے

مختار بنا کر انہیں فرمایا خدا نے

یہ عزت و رِفعت کہ ہر اِک شے پہ خدا نے

اللہ نے دی تیرے غلاموں کو یہ قوت

عالم کی خبر رکھتے ہیں گر وہ تو عجب کیا

تعلیم دی اِک نام کو جبریلِ امیں نے

آجانا مَدد کے لیے اے مَاہِ مَدینہ

اِک جام مئے عشق کا بندہ کو پلا کر

یہ حکم ملا رُوحِ امیں کو شب معراج

حاضر درِ اَقدس پہ ہوئے رُوحِ مُعَظَّم

حاضر ہے براق اور ہے طالب کا تقاضا

دولہا بنے تیار ہوئے صاحب معراج

سدرہ پہ تھکے بازوئے جبریل تو آگے

تنہائی سے خائف ہوئے جب شاہ تو رب نے

پھر عرش سے پار اپنے قریں ان کو بلایا

محبوب نے کی عرض کہ مولیٰ مری امت

جانِ دوجہاں رحمت عالم پہ ہو قرباں

وہ روز جمیلؔ رضوی کو ہو مُیَسَّر

— Jamil Ur Rehman Qadri\

Teri Panah Mein Roz (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

تریؐ پناہ میں روز جزا کا خوف نہیں

ترا کرم ہے تو یکسر سکون ہے دل کو

نفس نفس میں بسی ہے ہواۓ کوۓ رسولؐ

ترے ہی نام کا صدقہ ہرے بھرے موسم

غرور اسمِ محمدؐ کے ہیں علم بردار

— Ahmed Idrees\

Dard Apna De Iss Qadar (Hamd) | Best Hamd Lyrics in Urdu | Naat Lines

دَرْد اپنا دے اس قدر یارب

میری آنکھوں کو دے وہ بینائی

وِرد میرا ہو تیرا کلمۂ پاک

شجرِ نعت دِل میں بویا ہے

تیرے محبوب کا میں واصف ہوں

بطفیلِ رسولِ ہر دو سرا

تیری رحمت جو میرے ساتھ رہے

ایسا مجھ کو ُگما دے اُلفت میں

دیکھنے کے لیے مجھے ترسے

جان نکلے تو اس طرح نکلے

قبر میں اور جاں کنی کے وقت

سختیوں سے مجھے بچا لینا

ایسی دے میرے دل کو اپنی تلاش

آستانے کا اپنے رکھ منگتا

میں نے پھیلایا دامن مقصود

دِلِ وِیراں کو نور سے بھردے

عرش اس کو کہوں کہ بیت اللہ

نام کو تیرے رٹتے رٹتے روز

میرے سینے کو اپنی اُلفت سے

ذَرَّہ ذَرَّہ سے آشکارا ہے

تیرا جلوہ کہاں نہیں موجود

نَحْنُ اَقْرَب سے ُکھل گیا کہ تو ہے

تیری تحمید کرتے ہیں ہر دم

کرتے ہیں صبح و شام لیل و نہار

میرے جرم و قصور پر تو نہ جا

نہ ٹھکانہ مرا لگے گا کہیں

اپنے محبوب کا مجھے واصف

اُڑ کے پہنچوں میں شہر طیبہ میں

یوں اُٹھوں قبر سے دَرَخشاں رُو

میرے پیارے تیرے حبیب جنہیں

اُن کا اور اُن کی آل کا صدقہ

میری اولاد اور مری بہنیں

جملہ اَحباب اور سب اَہل سنن

دشمنوں پر طفیل غوثِ وَریٰ

میرے اُستاد تھے حسن مرحوم

اِتحاد ایسا سنیوں میں دے

ذِکر محبوب کی یہ محفل ہے

مرد و عورت گدا غریب و امیر

نیک کاموں کی ان کو دے توفیق

جو ہیں کم رِزْق مفلس و محتاج

لاوَلد کی مراد پوری کر

بانیِ مجلسِ مبارک کا

جو کہ جلتے ہیں ذکر مولد سے

نیچری و وہابی و رفاض

اور جتنے ہیں دشمن اِسلام

مسخ کردے کہ اُن کی ہوجائے

دے یہ توفیق تیرے اَعدا سے

زیر ہر دَم رہیں تیرے دشمن

قادِری ہے جمیلؔ اے غفار

— Jamil Ur Rehman Qadri\

Lab Kausar Hai Mela Tishna (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

لب کوثر ہے میلہ تشنہ کامانِ محبت کا

یہ عالَم انبیاء پر ان کے سرور کی عنایت کا

پلا دے اپنی نظروں سے چھلکتا جام رؤیت کا

وہی جو رحمۃللعالمین ہیں جانِ عالم ہیں

مہ و خورشید و انجم میں چمک اپنی نہیں کچھ بھی

بھٹکتا یوں پھرے کب تک تمہارا اخترؔ خستہ

— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\

Gham e Furqat Dill (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

غمِ فُرقت دِلِ عُشّاق کو بے حد رُلاتا ہے

مجھے اُس کے مُقدَّر پر بڑا ہی رَشک آتا ہے

مجھے اُس وَقْت دیوانے پہ بے حد پیار آتا ہے

یہ بیمارِ مدینہ ہے طبیبو! تم نہ سمجھو گے

دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں یارسولَ اللہ

مدد سرکار فرماتے ہیں دیوانہ اگر کوئی

عطا کردو عطا کردو بقیعِ پاک میں مدفَن

نہیں ہے چاند سورج کی مدینے کو کوئی حاجت

حُکومت کی طلب دل میں ، نہ خواہِش تاجِ شاہی کی

سخاوت بھی ترے گھر کی عنایت بھی ترے گھر کی

عِبادت ہو تو ایسی ہو ،تِلاوت ہو تو ایسی ہو

برستی ہے خدا کی اُس پہ رَحمت جھوم کر عطارؔ

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\

Nazron Mein Basi Hai (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

نظروں میں بسی ہے کسی مہتاب کی صورت

اک شمع کی مانند ہیں ہم تیز ہوا میں

وحشت کے سوا کیا تھا سروں میں کہ وہ آیا

پتھر تھا یہ دل موم ہوا انؐ کی نظر سے

شاہا ترےؐ قدموں کی مجھے دھول عطا ہو

— Ahmed Sagheer Siddique\

Do Alam Mein Roshan Hai (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

دوعالم میں روشن ہے اِکَّا تمہارا

نہ کیوں گائے بلبل ترانہ تمہارا

زمیں والے کیا جانیں رُتبہ تمہارا

پڑھا بے زبانوں نے کلمہ تمہارا

چھڑائے گا غم سے اِشارہ تمہارا

تمہیں ہو جوابِ ُسوالاتِ محشر

فَتَرْضٰی کی یہ پیاری پیاری صدا ہے

مرے پاس بخشش کی مہری سند ہے

پھریں کس لیے تشنہ کامانِ محشر

بہت خوش ہیں عشاق جب سے سنا ہے

نہیں ہے اگر زہد و طاعت تو کیا غم

ہو تم حاکم و فاتحِ بابِ رحمت

عمل پوچھے جاتے ہیں سرکار آؤ

جو اَنبارِ عصیاں ہیں سر پر تو کیا غم

ڈرے آفتابِ قیامت سے کیونکر

بنایا تمہیں حق نے مختار و حاکم

کیا حق نے بحرِ کمالات تم کو

مُیَسَّر کسی کو نہیں ایسی رِفعت

رَفَعْنَا کا جلوہ دکھانے کو حق نے

قبائل کے حصے کیے جب خدا نے

اَذانوں میں خطبوں میں شادی و غم میں

یہ فرشِ زمیں ہے تمہاری ہی خاطر

منور ہوا آسمانِ رِسالت

بھرے اس میں اَسرار و علم دوعالم

بحکمِ خدا تم ہو موجود ہر جا

تمہاری صفت حق نے فرمائی شاہد

کسی جا ہے طٰہٰ و یٰسٓ کہیں پر

جسے حق کے دِیدار کی آرزو ہو

خدا ہم کو بخشے وہ چشمِ خدا بیں

کیا تم کو نورِ مجسم خدا نے

کمالوں کا مخزن جمالوں کا گلشن

دِلِ پاک بیدار اور چشم خفتہ

خدا نے کیا اپنے پیارے سے وعدہ

وہی ہے خدا کی قسم بندۂ حق

صحابہ سے تقدیر والوں کے قرباں

شبِ وَصل میں اَنبیا و مَلک نے

گمی عقلِ کونین راز ِ دَنٰی میں

مُبَدَّل ہوئے اَنبیا کے صحائف

ہوا کفر کافور پھیلا اُجالا

جو عبد الصَّنَم تھے ہوئے بت شکن وہ

مقدر میں تھا جن کے ِایمان لانا

رَضاعت کے اَیام میں یہ حکومت

شہِ دِیں تمہاری وِلادت کے باعث

بتوں سے کیا پاک قبلہ بنایا

بھلا کون کعبہ کو کعبہ سمجھتا

جمادات نے دی تمہاری شہادت

صدا دے رہا ہے حجر موم ہو کر

تمہارے ہی سایہ میں پلتا ہے عالم

اَزَل سے اَبد تک دوعالم پلیں گے

خدا ہے تمہارا خدائی تمہاری

غریبو سوائے درِ مصطفیٰ کے

فقیرو بجز والیٔ بیکساں کے

گداؤں کی ہے بھیڑ جب سے سنا ہے

صدا دیتے آتے ہیں منگتا ہزاروں

کوئی بھیج دو اَبرِ رحمت کا ٹکڑا

عرب والے پھیرا ہماری طرف بھی

اُسی وقت دُھل جائیں عصیاں کے دفتر

خدا نے بہت آستانے بنائے

مطالب کا قبلہ ہے گر سبز گنبد

یہ ہے دابِ شاہی کہ ربُّ العلا نے

سوائے درِ پاک کے میرے داتا

مرے تن میں جب تک رہے سانس باقی

نہ بچتے عذابوں سے دنیا میں منکر

کھدا ہے مرے دل کی اَنگشتری پر

نکیرین کیا مجھ سے سختی کریں گے

خدایا نکیرین مجھ سے یہ پوچھیں

تڑپ کر بصد شوق اُن سے کہوں میں

دُعا ہے کہ جب وقت ہو جانکنی کا

خدا نے حیاتِ اَبد اس کو بخشی

دُعا ہے کہ جب قبر میں مجھ کو رکھیں

سوالِ نکیرین پر میں لحد میں

دَمِ نزع و قبر اور روزِ قیامت

گرے سارے منکر جہنم میں پل سے

نہ حوروں کا طالب نہ کچھ فکرِ جنت

عجب نکہت جانفزا ہے تمہاری

اسی سے ہوئے عنبر و مشک مشتق

جلیں منکرانِ قیام و وِلادت

سنو منکرانِ قیام و محافل

بتاتے ہو شرک اور ہوتے ہو شامل

جمیلؔ اب تو خوش ہو ندا آرہی ہے

— Jamil Ur Rehman Qadri\