روشن ہے دو عالم میں مہ رُوئے محمد
تاباں ہے ہر اِک شے میں رخِ پاک کا جلوہ
ظاہر یہ ہوا آیۂ اَللّٰہُ رَمٰی سے
جب نائب و محبوبِ خدا آپ ہی ٹھہرے
کعبے کی طرف کوئی نہ سر اپنا جھکاتا
مخلوق ہے جویائے رضا مندیِ خالق
دیتی ہے دُعاؤں سے تو اِیذاؤں کا بدلہ
جب حشر میں کوئی بھی کرے گا نہ سفارش
سب منتظرِ رحمتِ معبود ہیں لیکن
اُن پر نہ پڑیں کس لیے عالم کی نگاہیں
برسے گی شفاعت کی بھرن اُمت شہ پر
مرجاؤں مدینے کے بیاباں میں الٰہی
تاریکیٔ مرقد سے جو گھبرائے دلِ زَـار
جنت تو منائے گی چلو میری طرف کو
تب جان میں جان آئے جمیلؔ رضوی کے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
