داغِ فرقت طیبہ قلب مضمحل جاتا
میرا دم نکل جاتا ان کے آستانے پر
میرے دل سے دھل جاتا داغِ فرقت طیبہ
موت لے کے آجاتی زندگی مدینے میں
خلد زارِ طیبہ کا اس طرح سفر ہوتا
دل پہ جب کرن پڑتی ان کے سبز گنبد کی
فرقت مدینہ نے وہ دیئے مجھے صدمے
دل مرا بچھا ہوتا ان کی رہ گزاروں میں
دل پہ وہ قدم رکھتے نقش پا یہ دل بنتا
وہ خرام فرماتے میرے دیدہ و دل پر
چشم تر وہاں بہتی دل کا مدعا کہتی
در پہ دل جھکا ہوتا اذن پاکے پھر بڑھتا
میرے دل میں بس جاتا جلوہ زار طیبہ کا
ان کے در پہ اخترؔ کی حسرتیں ہوئیں پوری
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
