خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا
شرف حاصل ہوا سرکار تم سے جس کو بیعت کا
جو خالی ہاتھ آتے ہیں مرادیں لے کے جاتے ہیں
جو ہاتھ اُٹھا ہوا ہے ساری خلقت کا تری جانب
زمیں سے عرش تک گونجے دو عالم پڑ گئی ہلچل
کہیں صحرا میں موج آئی کہیں دَریا میں گرد اُٹھی
بتوں کو پوجنے والے بنے دَم میں خدا والے
خدا کے نام کو پھیلا دیا سارے زمانہ میں
وہ اپنی روشنی سے جگمگا دیتا ہے دنیا کو
تو وہ پیارا خدا کا ہے کہ پیارے تیرے صدقے میں
اسی امید پر ہے زندگی عشاقِ حضرت کی
مرا دل ہے مدینے میں مدینہ میرے دل میں ہے
کرے گر اِستغاثہ آپ کے دَر پر نہ یہ بندہ
تمہارے گیسوئے مشکیں کی کچھ ایسی گھٹا چھائے
یہ بے کھٹکے گنہگاروں کا داخل خلد میں ہونا
گنہگارو چلو دوڑو کہ وقت آیا شفاعت کا
اِشارے سے قمر کے دو کیے سورج کو لوٹایا
تَعَالَی اللہ بحکمِ حق فرشتے چرخ سے آکر
وہ ہے زورِ ید اللہی کہ ہمسر دونوں عالم میں
رہے گا روز اَفزوں آپ کا شہرہ قیامت میں
غزل اِک اَور بھی پڑھ اے جمیلِؔ قادری رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\