چارہ گر ہے دِل تو گھائل عشق کی تلوار کا
رُوکشِ خلدِ بریں ہے دیکھ کوچہ یار کا
حسن کی بے پردگی پردہ ہے آنکھوں کے لیے
حسن تو بے پردہ ہے پردہ ہے اپنی آنکھ پر
اِک جھلک کا دیکھنا آنکھوں سے گو ممکن نہیں
تیرے باغِ حسن کی رونق کا کیا عالم کہوں
کب چمکتا یہ ہلالِ آسماں ہر ماہ یوں
جاگ اُٹھی سوئی قسمت اور چمک اُٹھا نصیب
حسرتِ دِیدار دِل میں اور آنکھیں بہہ چلیں
بھیک اپنے مرہمِ دِیدار کی کردو عطا
کام نشتر کا کیا ناصِح نصیحت نے تری
یوں ہی کچھ اچھا مَداوا اس کا ہوگا بخیہ گر
اَز سرِ بالینِ من بر خیز اے ناداں طبیب
فتنے جو اُٹھے مٹا ڈالے رَوِش نے آپ کی
چوکڑی بھولا بُراقِ باد پا یہ دیکھ کر
کوئی دَم کی دیر ہے آتے ہیں دَم کی دیر ہے
جب گرا میں بے خودی میں ان کے قدموں پر گرا
آبلہ پا چل رہا ہے بے خودی میں سر کے بل
آبلوں کے سب کٹورے آہ خالی ہوگئے
آبلے کم مائیگی پر اپنی روئیں رات دن
وا اسی برتے پہ تھا یہ تَتَّا پانی واہ واہ
پاؤں میں چبھتے تھے پہلے اَب تو دِل میں چبھتے ہیں
پاؤں کیا میں دِل میں رکھ لوں پاؤں جو طیبہ کے خار
راہ پر کانٹے بچھے ہیں کانٹوں پر چلنی ہے راہ
خارِ گل سے دَہر میں کوئی چمن خالی نہیں
گل ہو صحرا میں تو بلبل کے لئے صحرا چمن
گل سے مطلب ہے جہاں ہو عندلیبِ زار کو
پھر سے ہوجائے نہ عالم میں کہیں طوفانِ نوح
دَھجیاں ہوجائے دامن فردِ عصیاں کا مری
کوثر و تسنیم سے دل کی لگی بجھ جائے گی
آئینہ خانہ میں اُن کے تجھ سے صدہا مہر ہیں
جلوہ گاہِ خاص کا عالم بتائے کوئی کیا
ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق روشن کئے
زَرد رُو کیوں ہوگیا خورشیدِ تاباں سچ بتا
ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق زیر نگیں
یہ مہ و خور یہ ستارے چرخ کے فانوس ہیں
مرقدِ نوریؔ پہ روشن ہے یہ لعل شب چراغ
— Mustafa Raza Khan Noori\
