کیسے کاٹوں رَتیاں صابر
مورے کرجوا ہوک اُٹھت ہے
توری صورتیا پیاری پیاری
چیری کو اپنے چرنوں لگالے
ڈولے نیا موری بھنور میں
چھتیاں لاگن کیسے کہوں میں
تورے دُوارے سیس نواؤں
سپنے ہی میں دَرشن دِکھلا دو
تن من دَھن سب تو پہ وارے
— Mustafa Raza Khan Noori\
کیسے کاٹوں رَتیاں صابر
مورے کرجوا ہوک اُٹھت ہے
توری صورتیا پیاری پیاری
چیری کو اپنے چرنوں لگالے
ڈولے نیا موری بھنور میں
چھتیاں لاگن کیسے کہوں میں
تورے دُوارے سیس نواؤں
سپنے ہی میں دَرشن دِکھلا دو
تن من دَھن سب تو پہ وارے
— Mustafa Raza Khan Noori\
طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا
رو رو کے نبی کو مِری رُوداد سنانا
ہو مجھ پہ کرم صدقے میں سلطانِ دَنا کے
کہتا تھا پھر اللہ مجھے حج پہ بلانا
بے چارہ مدینے سے بَہُت دُور پڑا ہے
کہتا تھا مجھے حاضِری کا اِذن دِلانا
کہنا بڑا عرصہ ہوا طیبہ نہیں پہنچا
مسکین کو اب قدموں میں سرکار بلانا
اے راہِ مدینہ کے مسافر تو ٹَھَہر کر
کر حق سے دعا رنج و الم اِس کے مٹانا
تو رب کا ہے مہماں رہِ جاناں کا ہے عازِم
اللہ سے کر عرض اِسے دوزخ سے بچانا
اللہ کے گھر کا جُوں ہی دیکھے تو دَوارا
گر ہوش ہوں قائم ترے مجھ کو نہ بُھلانا
رو رو کے تو کرنا مِرے حق میں یہ دعائیں
کر عرض خدا سے تو اسے نیک بنانا
بَہکاتا ہے شیطان تو ہے نفس ستاتا
کر حق سے دعا اِس کوگناہوں سے بچانا
سکرات کے صدمے مِرے بس میں نہیں سہنا
جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا
کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے
یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اٹھانا
نادِم ہے مزید اِس کو تُو شَرمندہ نہ کرنا
کر عرض خدا سے اِسے جنّت میں بسانا
جب تک ہو مدینے میں مُیسَّر تجھے رہنا
خیرات شَفاعت کی تَبَرُّک میں لے آ نا
اخلاص کی اللہ اسے کر دے عطا بھیک
حَسَنین کے صدقے اِسے ہنس مُکھ تو بنانا
چھائی ہے مِرے رخ پہ گناہوں کی سیاہی
کر عرض، انہیں آتا ہے تقدیر بنانا
کہنا کہ ندامت اسے عصیاں پہ بڑی ہے
تم نَزع میں دیدار کا جام اِس کو پلانا
کہتا تھا کراچی میں نہیں مجھ کو ہے مرنا
سلطانِ مدینہ اِسے قدموں میں سُلانا
تو دعوتِ اسلامی کے حق میں یہ دعا دے
فرمائیں کرم اِس پہ شہنشاہِ زمانہ
جب گنبدِ خضرا کو نظر جھوم کے چومے
کہنا: کَہَیں ، عطارؔ ہمارا ہے دِوانہ
طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا
رو رو کے نبی کو مِری رُوداد سنانا
ہو مجھ پہ کرم صدقے میں سلطانِ دَنا کے
کہتا تھا پھر اللہ مجھے حج پہ بلانا
بے چارہ مدینے سے بَہُت دُور پڑا ہے
کہتا تھا مجھے حاضِری کا اِذن دِلانا
کہنا بڑا عرصہ ہوا طیبہ نہیں پہنچا
مسکین کو اب قدموں میں سرکار بلانا
اے راہِ مدینہ کے مسافر تو ٹَھَہر کر
کر حق سے دعا رنج و الم اِس کے مٹانا
تو رب کا ہے مہماں رہِ جاناں کا ہے عازِم
اللہ سے کر عرض اِسے دوزخ سے بچانا
اللہ کے گھر کا جُوں ہی دیکھے تو دَوارا
گر ہوش ہوں قائم ترے مجھ کو نہ بُھلانا
رو رو کے تو کرنا مِرے حق میں یہ دعائیں
کر عرض خدا سے تو اسے نیک بنانا
بَہکاتا ہے شیطان تو ہے نفس ستاتا
کر حق سے دعا اِس کوگناہوں سے بچانا
سکرات کے صدمے مِرے بس میں نہیں سہنا
جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا
کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے
یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اٹھانا
نادِم ہے مزید اِس کو تُو شَرمندہ نہ کرنا
کر عرض خدا سے اِسے جنّت میں بسانا
جب تک ہو مدینے میں مُیسَّر تجھے رہنا
خیرات شَفاعت کی تَبَرُّک میں لے آ نا
اخلاص کی اللہ اسے کر دے عطا بھیک
حَسَنین کے صدقے اِسے ہنس مُکھ تو بنانا
چھائی ہے مِرے رخ پہ گناہوں کی سیاہی
کر عرض، انہیں آتا ہے تقدیر بنانا
کہنا کہ ندامت اسے عصیاں پہ بڑی ہے
تم نَزع میں دیدار کا جام اِس کو پلانا
کہتا تھا کراچی میں نہیں مجھ کو ہے مرنا
سلطانِ مدینہ اِسے قدموں میں سُلانا
تو دعوتِ اسلامی کے حق میں یہ دعا دے
فرمائیں کرم اِس پہ شہنشاہِ زمانہ
جب گنبدِ خضرا کو نظر جھوم کے چومے
کہنا: کَہَیں ، عطارؔ ہمارا ہے دِوانہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے
بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے
جو اَوروں کے علو کی اِنتہا ہے
خدا کی ذات تک تو ہی رَسا ہے
نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے
ملائک میں رُسل میں انبیا میں
تَعَالَی اللہ تیری شانِ عالی
نکالی زَورَقِ خورشید ڈوبی
تمہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا
تری صورت سے ہے حق آشکارا
نہیں ہوسکتا تجھ سے کوئی باہر
تو ہے نورِ خدا پھر سایہ کیسا
تو ہے ظل خدا وَاللہ بِاللہ
زمیں پر تیرا سایہ کیسے پڑتا
خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے
نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی
ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے
نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے
چھپا تم سے رہے کیونکر کوئی راز
مُسَلَّط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا
تری مرضی رضائے حق ہے مولیٰ
گزر تیرا ہوا ہے جو گلی سے
دُرودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ
دُرود اس پر ہو جس پر حق دُرودیں
سلام اس پر جو ہے مطلوب رب کا
سلام اس پر یہ بحر و بر ہیں جس کے
جس آقا کے ملائک ہیں سلامی
خدا کی سلطنت کا جو ہے دولہا
جسے سنگ و شجر تسلیمیں کرتے
سلام اس پر جو اَوَّل ہے رُسل کا
سلام اَوَّل کا اَوَّل پر ہمیشہ
سلام آخر کا آخر پر ہو دائم
سلامِ ظاہر و باطن ہو اس پر
سلام اے جانِ رحمت کانِ نعمت
رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر
رہے پیش نظر وہ رُوئے اَنور
شرابِ دِید سے دِل شاد کیجے
یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ
دمِ آخر تو آجا جانِ عیسیٰ
دمِ آخر چلے آؤ خدارا
ترے قدموں میں جس کو موت آئے
ہٹا دیجے رخِ اَنور سے گیسو
سُنگھا دیجے ہمیں وہ زُلفِ مُشکیں
دکھا دیجے شہا پُرنور چہرہ
ترے قربان اے زُلفِ مُعَنْبَر
مرے سر سے بلائیں دُور فرما
نحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں
پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور
نہ کیجے دُور اپنے در سے ہم کو
شہیدِ کربلا کا صدقہ دے دے
پریشاں ہوں پریشانی کرو دور
پریشانی وطن کی یاد کرکے
پریشانی ہے ُگوناُگوں وطن میں
یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے
میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں
رُموزِ مصلحت سرکار جانیں
مگر اتنی گزارش کی اجازت
ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا
کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے
قیامت ہے قیامت ہے قیامت
زمیں تابنے کی ہے سورج سروں پر
ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر
زبانیں سوکھی ہیں کانٹے جمے ہیں
کلیجے منہ کو آئے دَم گھٹے ہیں
سراپا کوئی تو غرقِ عرق ہے
تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر
مثالِ ماہیٔ بے آب کوئی
عجب ہی َکس مپرسی کا ہے عالم
زَن و شو میں نہیں باقی تعارُف
نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاوَر
بُرے اَحوال ہیں اس روز اُف اُف
کوئی ہانپے کوئی کانپے کراہے
ہے داروگیر کا ہنگامہ برپا
رُسل بھی نفسی نفسی کہہ رہے ہیں
بندھے گی آس اپنی بعدِ ہر یاس
اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر
شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا
چلو اے عاصیو کیوں ُکڑھ رہے ہو
مَلُول اے غم زَدو تم کس لیے ہو
سنیں گے سننے والے اِذْھَبُوْا کے
مظالم کرلیں جتنے ہوویں ظالم
— Mustafa Raza Khan Noori\
کاش ہوتا مدینے میں گھر یا نبیؐ
یہ شجر یہ پرندے یہ کوہ و دمن
آسرا اور کوئی نہیں دوسرا
دل کو آیا سکوں آپ کا ہے کرم
اس کی قسمت کھلی بن گیا وہ ولی
آپؐ راضی تو راضی ہے ہم سے خدا
— Taj Ud Deen Taj\
فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے
رات میری دن بنے ان کی لقائے خیر سے
ہیں غنی کے در پہ ہم بستر جمائے خیر سے
وہ خرام ناز فرمائیں جو پائے خیر سے
اس طرف بھی دو قدم جلوے خرام ناز کے
انتظار ان سے کہے ہے بزبان چشم نم
شام تنہائی بنے رشک ہزاراں انجمن
ہو مجھے سیر گلستان مدینہ یوں نصیب
زندہ باد اے آرزوئے باغ طیبہ زندہ باد
نجدیوں کی چیرہ دستی یا الہٰی تا بکے
جھانک لو آنکھوں میں ان کی حسرتِ طیبہ لئے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
آئینۃ جمالِ الہٰی کی بات ہے
والیل مصطفیٰؐ کی ہے زلفوں کا تذکرہ
وَالعَجم اُنؐ کے عرش پہ جانے کا ہے بیاں
کوثر ہے اُن کی کثرتِ جود و عطا کا نام
بدر و احد ہیں دیں کی بلندی کے معرکے
اسمِ محمدیؐ پہ تبسم ہے جاں نثار
— Tabasum Nawaz Waraich\
ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
مجھے کیا پڑی کسی سے کروں عرض مدعا میں
وہ جہان بھر کے داتا مجھے پھیردیں گے خالی
جو پئے سوال آئے مجھے دیکھ کر یہ بولے
میں مروں تو میرے مولیٰ یہ ملائکہ سے کہہ دیں
میں گناہ گارہوں اور بڑے مرتبوں کی خواہش
تری یاد تھپکی دیکر مجھے اب شہا سلا دے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
تری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کرلے
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
سلاسل مصائب کے اَبرو سے کاٹو
خدارا اب آؤ کہ دَم ہے لبوں پر
ترے نام پر سر کو قربان کرکے
یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
ترا ذکر لب پر خدا دِل کے اندر
دمِ واپسیں تک ترے گیت گاؤں
ترے دَر کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے
مرا دِین و اِیماں فرشتے جو پوچھیں
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا
خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد
خدا خیر سے لائے وہ دِن بھی نوریؔ
صبا ہی سے نوریؔ سلام اپنا کہہ دے
— Mustafa Raza Khan Noori\
ضِیاء پیر و مرشِد مرے رہنما ہیں
کلی ہیں گلستانِ غوثُ الوَرٰی کی
شریعت طریقت ہو یا معرِفت ہو
سہارا ہیں بے کس کا، د کھیوں کے والی
خد ا کی مَحَبَّتسے سرشار ہیں وہ
مِلا سبز گنبد کا قسمت سے سایہ
بلالو مجھے اپنے قدموں میں اب تو
مجھے رُوئے زیبا ذرا پھر دکھا دو
تصوُّر جماؤں تو موجود پاؤں
نہ کیوں اہلِ سنّت کریں ناز ان پر
مُنَوَّر کریں قلبِ عطارؔ کو بھی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\