تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم
ترا حل ہے تیرا حرم غوثِ اعظم
کرم آپ کا ہے اَعم غوثِ اعظم
مخالف ہوں گو سو پدم غوثِ اعظم
چلا ایسی تیغِ دودَم غوثِ اعظم
وہ اک وار کا بھی نہ ہوگا تمہارے
ترے ہوتے ہم پر ستم ڈھائیں دشمن
کہاں تک سنیں ہم مخالف کے طعنے
بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دے
نہیں لاتا خاطر میں شاہوں کو شاہا
کرم چاہیے تیرا تیرے خدا کا
گھٹا حوصلہ غم کی کالی گھٹا کا
بڑھا ناخدا سر سے پانی اَلم کا
کرو پانی غم کو بہا دو اَلم کو
نظر آئے مجھ کو نہ صورت اَلم کی
بڑھا ہاتھ کر دستگیری ہماری
خدارا ذرا ہاتھ سینے پہ رکھ دو
خدا نے تمہیں محو و اِثبات بخشا
ہے قسمت میری ٹیڑھی تم سیدھی کردو
خبر لو ہماری کہ ہم ہیں تمہارے
تم ایسے غریبوں کے فریاد رَس ہو
َبعینِ عنایت بچشمِ کرامت
ترا ایک قطرہ عوالم نما ہے
کچھ ایسا گما دے محبت میں اپنی
جسے چاہے جو دے جسے چاہے نہ دے
ترا حسن نمکیں بھرے زخم دل کے
ترقی کرے روز و شب دَردِ اُلفت
خدا رکھے تم کو ہمارے سروں پر
دمِ نزع سرہانے آجاؤ پیارے
تری دِید کے شوق میں جانِ جاناں
کوئی دَم کے مہماں ہیں آجاؤ اس دَم
دمِ نزع آؤ کہ دم آئے دم میں
یہ دل یہ جگر ہے یہ آنکھیں یہ سر ہے
سرِ ُخود َبہ شمشیرِ اَبرو فروشم
َبہ پیکانِ تِیرت جگر ِمی فروشم
دِماغم رَسد بَر سرِ عرشِ اعلیٰ
مری سر بلندی یہیں سے ہے ظاہر
لگا لو مرے سر کو قدموں سے اپنے
قدم کیوں لیا اَولیا نے سروں پر
کیا فیصلہ حق و باطل میں تم نے
تمہاری مہک سے گلی کوچے مہکے
کرم سے کیا رَہ نما رَہزنوں کو
مرا نفسِ سرکش بھی رَہزن ہے میرا
دِکھا دے تو اِنِّیْ عَزُوْمٌ کے جلوے
مرے دم کو اس کے دموں سے بچادے
میں ہوں ناتواں سخت کمزور حد کا
نہ پلہ ہو ہلکا ہمارا نہ ہم ہوں
کہاں تک ہماری خطائیں گنیں گے
ہماری خطاؤں سے دَفتر بھرے ہیں
تمہارے کرم کا ہے نوریؔ بھی پیاسا
— Mustafa Raza Khan Noori\