تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
تم پر لاکھوں سلام
ظاہر باہر سیادَت والے غالب قاہر رِیاست والے
تم پر لاکھوں سلام
نورِ علم و حکمت والے نافذ جاری حکومت والے
تم پر لاکھوں سلام
آپ کا چاہا رب کا چاہا رب کا چاہا آپ کا چاہا
تم پر لاکھوں سلام
تم ہو شہِ اَورَنگِ خلافت تم ہو والیِ مُلک جلالت
تم پر لاکھوں سلام
رب کے پیارے راج دُلارے ہم ہیں تمہارے تم ہو ہمارے
تم پر لاکھوں سلام
دھو دیں گنہ کے دَھبے کالے اَبرِ کرم کے برسیں جھالے
تم پر لاکھوں سلام
ڈگمگ ڈگمگ نیا ہالے جیرا کانپے توئی سنبھالے
تم پر لاکھوں سلام
بگڑی ناؤ کون سنبھالے ہائے بھنور سے کون نکالے
تم پر لاکھوں سلام
راجا پر جا آپ کے دوارے سب ہیں بیٹھے جھولی پسارے
تم پر لاکھوں سلام
کھیون ہارے کھیون ہارے بیاں پکڑے مورے پیارے
تم پر لاکھوں سلام
اپنے پرائے آپ کے در سے نعمتیں پائیں جھولیاں بھرکے
تم پر لاکھوں سلام
عرشِ عُلا پر رب نے بلایا اپنا جلوۂ خاص دکھایا
تم پر لاکھوں سلام
تخت تمہارا عرش خدا کا مُلکِ خدا ہے مُلک تمہارا
تم پر لاکھوں سلام
دے دیئے تم کو اپنے خزانے رَبِّ عزت رَبِّ عُلا نے
تم پر لاکھوں سلام
ایسی دولت پائی پھر بھی مِسکینی ہی تم نے چاہی
تم پر لاکھوں سلام
آپ سے دولت پائے دنیا آ پ کریں خود فاقہ پہ فاقہ
تم پر لاکھوں سلام
نعمتیں تم اَوروں کو کھلاؤ خود کھاؤ تو جو کی کھاؤ
تم پر لاکھوں سلام
دولت دو عالم کو بانٹو پیٹ پر اپنے پتھر باندھو
تم پر لاکھوں سلام
غیرو ں کو اپنوں سے زیادہ بانٹی تم نے دولتِ دنیا
تم پر لاکھوں سلام
ہم ہیں جتنے خاطی مخطی آپ ہیں اس سے زائد مُعطِی
تم پر لاکھوں سلام
تم کو دیکھا حق کو دیکھا آپ کی صورت اس کا جلوہ
تم پر لاکھوں سلام
کتنے پردے ہیں چہرے پر چہرہ پھر بھی مانندِ قمر
تم پر لاکھوں سلام
صورتِ اَقدس سے حق ظاہر کلمہ پڑھتے دیکھ کے کافر
تم پر لاکھوں سلام
بوجہلِ لَعِیں کلمہ پڑھتا دیکھا ہی نہیں اس نے شاہا
تم پر لاکھوں سلام
خُلْق تمہارا خُلْق الٰہی فیض تمہارا نامتناہی
تم پر لاکھوں سلام
ایسی مقدس خوابِ راحت آپ تو سوئیں جاگے قسمت
تم پر لاکھوں سلام
چشم سر نے حق کو دیکھا دل نے حق کو حق ہی جانا
تم پر لاکھوں سلام
مَازَاغَ بَصَرُکَ یَامَوْلٰی مَاکَذَبَ قَلْبُکَ حِیْنَ رَاٰی
تم پر لاکھوں سلام
قولِ حق ہے قول تمہارا اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی
تم پر لاکھوں سلام
فعل تمہارا فعلِ خدا ہے اس کا گواہ اَللّٰہُ رَمٰی ہے
تم پر لاکھوں سلام
آپ کا ید ید ربِ واحد فَوْقَ اَیْدِ یْھِم ہے شاہد
تم پر لاکھوں سلام
دین حق کے ہادی رہبر تم ہو حق کے نائبِ اَکبر
تم پر لاکھوں سلام
حلت و حرمت آپ کے منہ سے ایسے ہی ہے جیسے حق کے
تم پر لاکھوں سلام
آپ کا سایہ کیسے ہوتا آپ ہیں نورِ حق کا سایا
تم پر لاکھوں سلام
آپ کا دم ہے فرش کی نزہت اور قدم ہے عرش کی زینت
تم پر لاکھوں سلام
تم ہو نورِ چشم خلت تم ہو سروَر قلب صفوت
تم پر لاکھوں سلام
اے شاہد حق شاہد امت کافر پر تم رب کی حجت
تم پر لاکھوں سلام
سنت رب عزت تم ہو زیب و زین جنت تم ہو
تم پر لاکھوں سلام
خواب میں جلوہ اپنا دکھاؤ نوریؔ کو تم نوری بناؤ
تم پر لاکھوں سلام
— Mustafa Raza Khan Noori\
